اللہ کے بارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا اعتقاد

اللہ کے بارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا اعتقاد

شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

ہم( اہل سنّت کے ساتھ) ایک اللہ، ایک نبی، ایک امام پر اکھٹا نہیں ہوسکتے ،اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ: ان کا رب وہ ہے جس کےنبی محمدﷺ ہیں اوران کا ہونے والاخلیفہ ابوبکر ہے، جبکہ ہم(شیعہ اثنا عشریہ) اس رب اور اس نبی کے قائل نہیں ہیں، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ: وہ رب جس کے نبی کا خلیفہ ابوبکر ہے وہ ہمارا رب نہیں ہے اور نہ ہی وہ نبی ہمارا نبی ہے۔

دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیہ) لنعمۃ اللہ جزائری ۲؍۲۷۸)۔

 اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

بے شک اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن نہیں دیکھا جا سکتا، اور نہ ہی اسے کسی مکان وزمان سے متصف کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، اور جو کہتا ہے کہ وہ(اللہ تعالیٰ) نچلے آسمان پر اترتا ہے ،یا یہ کہ وہ اہل جنّت کے لئے چاند یا اس جیسے ظاہر ہوگا تو وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہوگا۔

(دیکھیں:کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۵۸)۔

٭ اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

 اللہ تعالیٰ بروز قیامت بندہ مومن سے مخاصرہ کرے گا، اسی طرح مومن بھی اپنے رب سے مخاصرہ کرے گا اور اسے اپنے گناہوں کو یاد دلائے گا، پو چھا گیا مخاصرہ کیا ہے؟ فرمایا: اس نے اپنے ہاتھ کو میری کھوکھ پر رکھا، اور کہا: اسی طرح ہم سے آدمی اپنے بھائی سے خوش کن بات پر مناجات وسرگوشی کرتا ہے۔

 (دیکھیں: کتاب (الأصول الستۃ عشر) تحقیق: ضیاء الدین المحمودی ،ص ۲۰۳)۔

اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

بےشک اللہ تعالی ٰیوم عرفہ کو روئے زمین پر زوال کے شروع ہوتے ہی چوڑی پیشانی والے اونٹ پر نازل ہوتا ہے،اور اس کی دونوں رانوں سے اہل عرفات کو دائیں وبائیں سے روندا جاتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب (الأصول الستۃ عشر) تحقیق: ضیاء الدین المحمودی، ص ۲۰۴)۔

  اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

قبر کا استقبال کرنا ضروری ہے، گرچہ وہ قبلہ کے موافق نہ ہو،اسی طرح زائر کے لئے قبر کا استقبال کرنا قبلہ کے استقبال کے درجہ میں ہے اور وہ (اللہ کا چہرہ) ہے یعنی اس کی جہت ہے جس کا اس حالت میں لوگوں کو استقبال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار ) للمجلسی، ۱۰۱؍۳۶۹)۔

  اسی طرح وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

 تمہارا (آہ) کہنا یہ اللہ کے اچھے ناموں میں سے ہے، پس جس نے (آہ) کہا تو گویا اس نے اللہ سے فریاد طلب کیا۔

(دیکھیں: کتاب (مستدرک الوسائل) للنوری طبرسی، ۲؍۱۴۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی زیارت کرتا ہے اور ان سے مصافحہ کرتا ہے، اور ان کے ساتھ چارپائی پر بیٹھتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب (صحیفۃ الأبرار) محمد تقی، ۲؍۱۴۰)۔