اعتراض: معاویہ نام کے معنی کتیا ہے جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی ہے

شیعہ اعتراض 

“معاویہ” کے معنیٰ کتیا کے ہیں جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی ہے۔

(تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، شرح عقائد النبراس، ربیع الابرار و نصوص الابرار، تاریخ الخلفاء)

*الجواب*

مذکورہ کتابوں میں لغوی معنیٰ کا بیان مذکور ہے، اگر لغوی معنی اہم ہوتے توحضرت امیر معاویہ کے نام سمیت نبی کریم کئی اور نام  بھی تبدیل کرچکے ہوتے، کیونکہ کئی ایسے نام ہیں جو اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں مروج ہیں جن کے لغوی معنی نامنساب اور برے ہیں ، اگر وہ ذہن میں رکھے جائیں تو کئی بزرگوں کی شان میں گستاخی ہوجاتی ہے۔

 اہل سنت اور ایل تشیع کتب سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ نام رکھتے وقت اس کے لغوی معنی پر توجہ دینے کے بجائے مشہور و معروف مفہوم کو ذہن میں رکھا جاتا ہے۔

اسلام میں اچھے نام رکھنے کی اہمیت 

حضور ﷺ اچھے نام رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے بلکہ نام کے معنیٰ میں اگر اچھائی نہ ہو یا اس میں شبہ ہو تو اسے بدل دیا کرتے تھے۔ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کا نام ’’ برۃ ‘‘ تھا جس کے معنی نیکوکار ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کا نام اس لیے تبدیل فرما دیا کہ اس میں اپنی تعریف کا پہلو نکلتا ہے۔ اسکی وجہ سے نفس کہیں دھوکہ نہ دے دے ، لہٰذا آپ کا نام زینب رکھا۔

اسی طرح ایک صحابی کا نام ’’ حزن ‘‘ تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کا نام اس لیے بدل دیا کہ اس کے معنیٰ سخت زمین کے ہوتے ہیں’’ سہل ‘‘ نام رکھ دیا۔ جس کے معنیٰ نرم ہونے کے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ اچھے نا م سن کر خوش ہوتے تھے اور اس کے اثرات کے متمنی ہوتے تھے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر معاملہ الجھا ہوا تھا، قریش کی جانب سے ثالثی کے لیے سہیل آئے تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں۔ بتایا گیا کہ سہیل ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے ہمارے معاملہ کو آسان کر دیا اور پھر انہیں کے ذریعہ صلح حدیبیہ کا تاریخ سازمعاہدہ وجود میں آیا جس کو رب تعالیٰ نے فتح مبین سے تعبیر کیا۔

حضور اکرم ﷺ نے متعدد صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام تبدیل فرمائے ہیں تاکہ نئے نام اور اسلام لانے سے ان کے کردار میں ناموں کے معانی کے لحاظ سے تبدیلی اور برکت شامل ہو جائے اور وہ سر تاپا اسلامی رنگ میں ڈھل جائیں اور نیکی کا مرقع بن جائیں۔ سیرت کی کتابوں میں بہت سے واقعات موجود ہیں ۔ چند ملا حظہ فرمائیں۔

ایک صحابی رضی اللہ عنہ‘ کا نام اسود (کالا، گرد آلود، تاریک) سے بدل کر ابیض (سفید) رکھ دیا۔ اسطرح ایک صحابی کا نام الجبار (جبر و ظلم کرنے والا) سے بدل کر عبد الجبار (جبار کا بندہ) رکھ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ‘ کا نام عبد الکعبہ (کعبہ کا بندہ ) سے تبدیل کر کے عبداللہ (اللہ کا بندہ) رکھ دیا۔

مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام عبد الشمس سے بدل کر عبد الرحمٰن رکھ دیا۔ اسطرح آپ ﷺ نے عاصی، عتلہ، حکم، غراب، حباب کے نام تبدیل فرمائے اور احرام کو زرعہ، عاصیہ کو جمیلہ اور برہ کو زینب سے بدل دیا۔ (سنن ابو دائود)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا جسے آپ ﷺ نے بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔

ایک صحابی کا نام عبدشہ تھا آپ صلی الله عليه وسلم نے بدل کر عبد خیر رکھ دیا

شہاب نام بدل کر ہشام رکھ دیا حرب نام کو سلم سے بدل دیا مضطبح کو آپ صلی علیہ وآلہ وسلم نے منبعث سے تبدیل کردیا

یہ سب اصحاب رسول کے نام تھے جن کو آپ نے تبدیل کرکے دوسرے اچھے اور اسلامی نام نام رکھ دئیے اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ کے گھر پہلے بچے کی ولادت ہوئی تو آپ صلی الله عليه وسلم نے پوچھا کہ بچے کا کیا نام رکھا ہے جس پر حضرت فاطمہ نے جواب دیا کہ ان کے ابا علی نے بچے کا نام حرب رکھا ہے تو آپ صلی الله عليه وسلم نے یہ نام بدل کر حسن رکھ دیا اسی طرح پھر جب دوسرے بچے کی ولادت ہوئی تو آپ صلی الله عليه وسلم نے پوچھا کہ بچے کا کیا نام رکھا ہے تو بی بی فاطمہ نے جواب دیا کہ ان کے ابا علی نے حرب نام رکھا ہے تو آپ صلی الله عليه وسلم نے پھر نام بدل دیا اور حسین رکھ دیا

یہ تمام تبدیل شدہ ناموں کی روایات ابو داود شریف باب فی تغیر الاسم القبیح سے ہیں بحوالہ سیرت الصحابہ تذکرہ حضرت فاطمی رضی اللہ عنہما

اسی طرح نام تبدیل کرنے کی دیگر روایات بھی موجود ہیں کہ نبی اکرم صلی الله عليه وسلم برے نام کو اچھے نام سے بدل دیا کرتے تھے لہذا اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ کے نام میں کسی قسم کی کوئی قباحت ہوتی تو آپ یہ نام بھی تبدیل کرسکتے تھے

قابل غور بات یہ ہے کہ لغت کے اصول کے اعتبار سے اسما اور اعلام میں ابتدائی لفظ معنی مراد نہیں لیے جاتے جیسے حضور اقدس کے مبارک نسب نامہ میں، کلاب، چھٹی پشت پر نام موجود ہے جسکا معنی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نا ہی کوئی جرات کرسکتا ہے

اسی طرح اویس کا معنی بھیڑیا ہے (بحوالا مصباح اللغات)

الباقر کا معنی گایوں کا ریوڑ ہے

الجعفر کا معنی دریا، ندی، اور بہت دودھ دینے والی اونٹنی ہے

عباس عبوسیت کا لغوی معنی برا منہ بنانے والا تیور چڑھانے والا ہے

جس طرح ان مذکورہ ناموں کے معنی اچھے نہیں لیکن اسکے باوجود آج بھی یہ نام رکھے جاتے ہیں بلکہ اللہ کے برگزیدہ اور نیک بندوں کے بھی یہ نام رکھے گئے

  لیکن ان ناموں پر آج تک کسی نے ترجمہ کرکے تنقید نہیں کی اس لیے کہ یہاں معنی مراد ہی نہیں

اگر رافضی شیعہ  کہتے ہیں کہ ضرورت ہے تو پھر پہلے اپنے آئمہ کے ناموں سے ابتدا کروائیں

امیر معاویہ کا نام اسکے لیے ملا ہے کہ اسکا معنی کرکے اپنے خبث باطن اور بدفطرت ہونے کا ثبوت دیتے ہیں

مثلا جیسا کہ الباقر کا لغوی معنی گایوں کا ریوڑ یا صرف باقر کے معنی بنتے ہیں گائے تو کیا شیعہ اپنے امام کو اس نام سے پکارسکتے ہیں کہ ہمارا امام گائے

اسی طرح الجعفر کا معنی کرتے ہوئے یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہمارا امام دریا ندی یا دودھ دینے والی اونٹنی ہے

عباس کا علم لگانے والوں اور غازی عباس کے ترانے گانے والوں عباس کا لغوی معنی بھی برامنہ بنانے والا یا تیور چڑھانے والا ہے تو اب یہاں بھی کہو کہ غازی عباس برا منہ بنانے والا

بتاو شیعوں کیا تم ایسا کرسکتے ہو؟

یقیناً نہیں کرسکتے کیونکہ یہ سب شخصیات قابل احترام ہیں

تو پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ کے مبارک نام کا غلط مفہوم بیان کرکے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول کیوں جھونکتے ہو؟

یہ تو آئمہ کرام ہیں اور اہل بیت رسول ہیں ان کا مقام و مرتبہ بھی اللہ عزوجل نے بلند رکھا ہے ، لیکن حضرت امیر معاویہ تو صحابی رسول ہیں کاتب وحی ہیں اور آپ صلی الله عليه وسلم کی پیاری زوجہ محترمہ کے بھائی ہیں ، بعد میں آنے والے امتی چاہے کتنی ہی عبادت و ریاضت کرلیں  تب بھی  صحابیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے

حضور صلی اللہ تعالیٰ کی خدمت اور صحبت میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ گزارہ ہے خصوصاً کتابت و وحی و خطوط کے لیے اور اس دوران حضور پرنور صلی الله عليه وسلم آپ کو مختلف کاموں کے لیے معاویہ کہہ کر پکارتے ہونگے جب زبان نبوت سے بار بار معاویہ نام جاری ہوتا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا لیکن چودہ سوسال بعد اس بدفطرت اور کائنات کے بدترین اور غلیظ ترین کافر شیعہ مصنف غلام حسین نجفی ملعون و مردود اور دیگر اہل تشیع یا ان کے گندے جرثوموں کو نام اور معنی میں خرابی نظر آگئی

حضرت عرباض بن ساربہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ

اے اللہ معاویہ کو حساب و کتاب کا علم دے اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ (مسند احمد)

یا معاویہ ان ملکت فااحسن

اے معاویہ جب تمہیں اقتدار نصیب ہوتو لوگوں سے حسن سلوک کرنا

(المصنف لاابن ابی شیبہ ج 1 ، الصواعق المحرقہ )

عبد الرحمان بن ابی عمیرہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور انور سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ اے اللہ معاویہ کو ہادی اور مہدی بنا اور اسکے زریعے سے لوگوں کو ہدائت عطا فرما (ترمذی باب مناقب معاویہ)

  معاویہ نام کس کس کے ہیں

حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی کا نام معاویہ بن الحارث ہے

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے پوتے کانام معاویہ بن عباس بن علی ہے

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کی ایک بیٹی رملہ کی جس سے شادی ہوئی اس کا نام معاویہ بن مروان ہے یعنی حضرت علی کے داماد کانام معاویہ ہے

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے ایک شاگرد کا نام معاویہ بن صعصعہ ہے

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے بھائی حضرت جعفر طیار کے پوتے کانام معاویہ بن جعفر بن عبداللہ بن جعفر ہے

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ کے بھتیجے کانام معاویہ بن عبداللہ ہے

حضرت محمد باقر کے پوتے کانام معاویہ بن عبداللہ افصح ہے

حضرت جعفر صادق کے دو شاگردوں کا نام معاویہ بن سعید الکندی، معاویہ بن مسلمہ النفری ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے نوفل کے پڑپوتے کانام معاویہ بن محمد بن عبداللہ بن نوفل ہے

سیرت صحابہ کرام اور اسما الرجال کی کتب میں درجنوں نام صحابہ کرام و تابعین اور صلحائے امت کے نام معاویہ ہیں

سترہ یا بعض روایات میں ستائیس صحابہ کرام کے نام معاویہ ہیں

حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک مسجد کانام بنو معاویہ تھا اور اس مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی قبول ہوئی تھی (روائت صحیح المسلم کتاب الفتن)

شیعہ لوگ فقہ میں جن کو اپنا امام مانتے ہیں یا ان کے فقہ کے چار ستون جن کو سمجھاجاتا ہے ان میں سے ایک کے باپ کانام معاویہ تھا یعنی زرارہ، ابو البصر، محمد بن سلم، برید بن معاویہ

ان مذکورہ ناموں میں سے کبھی کسی نے نقص نکالا ہے یا کبھی ان حضرات میں سے کسی ایک معاویہ نام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے؟

نہیں. تو کیا یہ ساری نفرت و عداوت صرف امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے؟

کیا خمینی کی منحوس ذریت میں سے کوئی شیعہ یہ جرات کرسکتا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے داماد اور شاگرد، حضرت حسین کے بھتیجے ،حضرت جعفر صادق کے شاگرد، حضرت باقر کے پوتے، حضرت علی کے پوتے، اور دیگر ان حضرات میں سے جس جس نے بھی معاویہ نام رکھا ہے تو کیا یہ اسکا معنی لومڑی کی اولاد یا کتیا یا بھونکنا رکھ سکتے ہیں؟؟؟

آو شیعوں جواب دو

اگر تمہارا جواب نفی میں ہے تو بتاو اگر معاویہ نام بہت برا ہے قبیح سمجھاجاتا ہے تو وہی نام مذکورہ بالا شخصیات کے لیے اچھا اور مناسب کیسے ہوسکتا ہے؟؟

یعنی گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

اسم معاویہ کی لغوی تحقیق

لفظ معاویہ بروزن مفاعلہ ہے باب مفاعلہ سے حروف اصلی کے اعتبار سے اسکامادہ ع، و، ی، ہے

1. معاویہ ایک ستارہ کانام ہے

2. معاویہ چاند کی منازل میں سے ایک منزل کا نام ہے

3. معاویہ ایک سخت پتھر جو زمین میں دھنسا ہوا ہو

4. معاویہ. کسی کی مدافعت کرنا

5. معاویہ. حمائت یا جنگ وغیرہ کے لیے لوگوں کو جمع کرنا

6. معاویہ. آواز دےکر پکارنا بھیڑیا کا آواز نکالنا کتے کو بھونکانا

7. معاویہ. کسی چیز کو مروڑنا یا خم دینا

8. معاویہ. شیر کی آواز للکارنا

9. معاویہ. تیس برس کی جوانی کی عمر کو پہنچنا

لغوی تحقیق کے مطابق معاویہ کے مندرجہ بالا معانی ہی اخذ ہوتے ہیں اب اسکی کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیں تاکہ حقیقی مفہوم اچھی طرح سمجھ آسکے

یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ عربی زبان بیت وسیع ہے اور اسمیں ایک چیز کے کئی نام ہیں اور پھر الفاظ وہ ہیں جنکا مصدر بھی ہوتا ہے جس سے لفظ نکلتا ہے اور نکلنے والے لفظ کو مشق کہتے ہیں پھر اشقاق شدہ جو الفاظ ہوں ان کے مختلف صیغے مختلف ابواب مختلف حیثیتیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے معانی و مفاہیم بدلتے رہتے ہیں کسی لفظ کا عمومی معنی کچھ اور ہوتا ہے لیکن حقیقتاً وہ کچھ اور ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی لفظ کا ابتدائی معنی تو اچھا ہوتا ہے مگر صیغہ یا ابواب کی ہئیت بدلنے سے معنی عجیب ہوجاتا ہے

مثال کے طور پر، علی، علو سے ہے بمعنی بلندی کے جبکہ علو مصدر سے اسکے معنی بلندی کے ہیں اور سرکشی ظلم اور زیادتی کے بھی بنتے ہیں اب کوئی بےوقوف یہ کہنا شروع کردے کی علی کے معنی سرکشی اور ظلم و زیادتی کے ہیں تو کیا معاذ اللہ حضرت علی ایسے تھے

نہیں بالکل بھی نہیں اور ایسا کہنا یا سمجھنا سراسر جہالت اور زلالت ہے

معاویہ کا معنی نمایاں ستارہ کے بھی ہے

العوا اسم النجم ہے امام زہری کے نذدیک العوا ستارہ کانام ہے اسم مقصورہ ہے اور العوا معاویہ سے ہے اور یہی قول ابن کناسہ کا ہے یعنی معاویہ ستارے کو کہتے ہیں

سحری کے وقت تین ستارے نمایاں ہوتے ہیں اور ان تینوں میں جو ستارہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے اسے العوا کہتے ہیں اور یہ کرے اسی ستارے کو دیکھ کر بھونکتے ہیں ان ستاروں کا نمایاں ہونا اور قطار میں آنا اس بات کی علامت ہے کہ اب رات کی تاریکی چھٹنے والی ہے اور صبح صادق ہونے والی ہے پرانے وقتوں میں لوگ انہی ستاروں کو دیکھ کر صبح ہونے کا اندازہ لگالیا کرتے تھے

العوا اسی ستارے کو کہتے ہیں جو کتوں کو بھونکانے کا سبب بنتا ہے کیونکہ کتے فطری طور پر یہ چیز محسوس کرلیتے ہیں کہ اب صبح ہونے والی ہے اور دن چڑھے ان کی عیاشی اور آزادی ختم ہوجائے گی

اسی طرح تمام صحابہ کرام بھی آسمان پر روشن ستاروں کی مانند ہیں کفار کو ہمیشہ ان کی ایمانی چمک سے غیض و غضب رہا ہے جیسے رب تعالی کا فرمان ہے لیغیظ بہم الکفار

اسی وجہ سے کفار اس دور میں بھی صحابی کرام پر بھونکتے اور تنقید و تبرا کرتے تھے اور آج تک صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر تنقید وتبرا کا سلسلہ جاری ہے لیکن صحابہ کرام میں جب نام  اسم گرامی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ سامنے آتا ہے تو دشمن معاویہ شیعہ لعین منہ اوپر کرکے کتے کی طرح بھونکنا شروع کردیتے ہیں

ویسے تو تمام صحابہ کرام نے کفر کی بیخ کنی کی اور اسلام کا پرچم لہرایا مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ علیہ نے اپنے انیس سالہ دور حکومت کفر و یہود و نصاری سبائیت اورسبائیت کی اولاد شیعت کو ناکوں چنے چبوادئیے کیونکہ امیر معاویہ نے ہی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کے قاتل شیعوں کو چن چن کر واصل جہنم کیا تھا

معاویہ کا مطلب کتوں کو بھونکانا ہے جس کی واضح مثال شیعت کے روپ میں آج بھی موجود ہے

جب جب نام معاویہ لیا

تب تب شیعہ کتا بھونکا

لفظ معاویہ کا معنی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

معاویہ رات کے آخری پہر میں آسمان پر چمکنے والے ستارے کا نام ہے کہ جس کے طلوع ہونے پر کتے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں اور کتوں کی عادت ستاروں کو دیکھ کر بھونکنا ہے ۔ (لسان العرب جلد 15 صفحہ 108)

حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کے بھائی حضرت جعفر طیار رضی ﷲ عنہ کے پوتے اور حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ کے بھتیجے کا نام “معاويہ” تھا ۔ (طبقات ابن سعد جلد نمبر سوم حصّہ پنجم و ششم صفحہ نمبر 292 مترجم اردو مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی)

خدا را بغض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں مبتلا لوگو معاویہ نام کو برا بھلا کہنے والو معاویہ نام کے غلط معنیٰ بتانے والو اور کچھ نہیں نسبت صحابیت کا تمہیں پاس نہیں تو نسبت اہلبیت رضی اللہ عنہم کا خیال کر لو حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کے بھائی حضرت جعفر طیار رضی ﷲ عنہ کے پوتے اور حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ کے بھتیجے کا نام “معاويہ” تھا اس نسبت کا ہی خیال کرو ۔

یاد رہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں یقیننا ستارے کو دیکھ کر کتے ہی بھونکتے ۔

تاریخ کی کتب اور شیعہ کی کتب کا مطالعہ کریں تو نام “معاويہ” صرف حضرت امیر معاويہ رضی ﷲ عنہ کا ہی نہیں بلکہ اور بھی کافی اشخاص خاص طور پر اہل بیت رضی اللہ عنہم میں بھی کافی لوگوں کا نام معاويہ تھا ۔ مگر افسوس کہ شیعہ حضرات اپنی کتب ہی نہیں پڑھتے تو ان بے چاروں کو کیا معلوم معاویہ نام کتنا مقدس و محترم ہے ۔ انہیں تو صرف طعن و تشنیع کرنا ہی آتا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم پر ۔ دونوں حوالوں کے اسکن پیش خدمت ہیں ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

آج کی شام امیر شام کے نام

رافضی نام حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) سے بہت جلتے ہیں اور اس سلسلے میں اسم معاویہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس کا مطلب بتایا جائے یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ عربی میں ایک لفظ کے مختلف اور ایک سے زائد معنی موجود ہوتے ہیں۔ لفظ معاویہ کے دس کے قریب معنی لغت (لسان عرب) میں موجود ہیں۔

١) ایک ستارہ کا نام

٢) چاند کی منازل میں سے ایک منزل کا نام

٣) ایسا سخت پتھر جو زمین میں دھنسا ہوا ہو

٤) عالم شباب میں قوت بازو سے مد مقابل کا پنجہ مروڑ ڈالنا

٥) آواز دے کر پکارنا

٦) بھیڑیے کی آواز نکالنا

٧) کتے کا بھونکنا

٨) شیر کی آواز، للکار

ان میں سب سے موزوں مطلب شیر کی للکار اور ایک ستارے کا نام ہے کیونکہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے شیر کی طرح کافروں کو للکارا تھا اسلامی فتوحات کا جو سلسلہ مولا علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے دور میں تھم گیا تھا اسے پھر جاری کیا اور آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) کی خلافت اسلامی تاریخ کا ستارے کی مانند چمکتا باب ہے۔

اگر پھر بھی رافضی اصرار کریں کہ اس کا مطلب کتے کا بھوکنا ہی لیا جائے گا تو معاویہ بن حکیم امام رضا (رضی اللہ تعالی عنہ) کے ثقہ اصحاب میں شامل ہے اور امام باقر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے ایک صحابی کا نام معاویہ عجلی بھی تھا۔

معاوية بن حكيم بن معاوية بن عمار الدهني ثقة، جليل، في أصحاب الرضا عليه السلام

قال أبو عبد الله الحسين بن عبيد الله: سمعت شيوخنا يقولون: روى معاوية بن حكيم أربعة وعشرين أصلا لم يرو غيرها

کتاب رجال النجاشي – النجاشي – الصفحة ٣٩٤

حضرت عبداللہ بن جعفر کے بیٹوں کے نام : علی ، اسماعیل ، اسحاق ، اور معاویہ … اگر معاویہ کے معنے بھونکتا ہوا کتا ہیں ، تو حضرت عبداللہ بن جعفر کو ذرا سوچنا نہیں چاہیے تھا ایسا نام رکھتے ہوۓ ؟؟

کتاب ﻣروج اﻟذھب وﻣﻌﺎدن اﻟﺟوھر – أﺑﻲ اﻟﺣﺳن ﻋﻟﻲ ﺑن اﻟﺣﺳﯾن ﺑن ﻋﻟﻲ اﻟﻣﺳﻌودي – ج ٢ – الصفحة ٢٣٦

حضرت مولانا محمد نافع رحمہ الله نے اس اعتراض کا خوبصورت جواب ارشاد فرمایا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔

# سب سے پہلے معاویہ  کے لغوی معنی اور مادہ کے اعتبار سے بعض چیزیں پیش کی جاتی ہیں اس کے بعد دیگر امور پیش خدمت ہوں گے۔

اہل لغت نے لکھا ہے

کہ “معاویہ” اگر معرف بلام ہو تو اس کا معنی “سگ مادہ آواز کنندہ” کے ہیں اور بغیر “الف لام” کے لوگوں کے علم کے طور پر مستعمل ہے جیسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ اور اس کو اصطلاح لغت میں “اسم منقول عنہ” کہتے ہیں”۔

(القاموس صفحہ 896 طبع قدیم تحت عوی)

صاحب قاموس مجدالدین فیروز آبادی نے اسی مقام میں اسی مادہ(عوی) سے ایک محاورہ *دعاواھم ای صاحھم* (یعنی اس شخص نے لوگوں کو آواز دی) بھی ذکر کیا ہے۔اس محاورے کے اعتبار سے “معاویہ” کا معنی “لوگوں کو آواز دینے والا” بھی درست ہے۔

(القاموس صفحہ 896 طبع قدیم تحت مادہ عوی)

(لغت کی بعض کتابوں میں معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معنی سردار بھی لکھا ہوا ہے۔از راقم).

یاد رہے کہ اگر کوئی شخص یہ شبہ پیدا کرے کہ اسم “معاویۃ” میں “ۃ” تانیث ہے تو مذکورہ بالا محاورہ اس میں کس  طرح درست ہوسکتا ہے؟

تو اس شبہ کو رفع کرنے کے لئے یہ پیش کر دینا کافی ہے کہ رمضان کے اسماء اور اعلام میں بعض دفعہ “ۃ” تانیث کے لئے نہیں ہوتی جیسے “یا ساریۃ الجبل” میں اسم “ساریۃ” ایک معروف شخص کا مشہور نام ہے۔ اسی طرح طلحہٰ، عکرمۃ، وغیرہ بھی عام اسماء مذکر ہیں  اور ان میں “ۃ” پائی جاتی ہے جو کسی طرح بھی تانیث پر دلالت نہیں کرتی۔ اسی طرح اسم”معاویۃ” میں “ۃ” تانیث کیلئے نہیں۔

نیز اہل لغت کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ اسماء اور اعلام میں ان اسماء کے اصل مادہ کا لغوی معنی مراد نہیں لیا جاتا اور علم ہو جانے کی صورت میں لغوی معنی اور اس کا اصل مفہوم متروک ہو جاتا ہے مثلاً “عباس” اور “جعفر” جب کہ علم ہو تو ان کے لغوی معنی اور مفہوم مراد نہیں لئے جاتے۔ کیونکہ”عبوسیت” کا مغوی معنی “برا منہ بنانا” اور ” تیوری چڑھانا” ہے اور اسی طرح “جعفر” کا لغوی معنی “شتر” بھی ہے جبکہ عباس اور جعفر اکابر بنی ہاشم حضرات کے اسماء ہیں اور ان کا لغوی معنی و مفہوم کبھی مراد نہیں لیا جاتا۔ نیز حضرت علیؓ کے نسب شریف میں یعنی ساتویں پشت میں ایک نام کلاب ہے جو مرہ کا بیٹا ہے وہاں بھی لغوی معنی مراد نہیں بلکہ وہ مفہوم متروک ہے ٹھیک اسی طرح حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام میں لغوی معنی و مفہوم مراد نہیں لیا جاتا۔

*اعلام میں طریقہ کار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

مزید گزارش یہ ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ قبیح اسماء کو تبدیل فرما دیا کرتے تھے چنانچہ وہ اسماء جو نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے متغیر فرمائے ان میں سے چند ایک بطورنمونہ ذیل میں ذکر کئے جاتے ہیں۔

#ایک لڑکی یعنی (بنت عمر بن خطاب) کا نام “عاصیہ” تھا اس کا نام آنجناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل کرتے ہوئے فرمایا “انت جمیلہ”-

# ایک لڑکی کا نام “برہ” تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا نام “زینب” رکھو “سموھا زینب”-

# ایک شخص سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام دریافت فرمایا تو اس نے کہا “حزن” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “انت سہل”-

# محدثین نے ذکر کیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “العاص” کا نام تبدیل فرما دیا تھا اسی طرح عتلہ، شیطان اور غراب وغیرہ ہم جیسے متعدد اسماء متغیر فرمائے۔

# ایک شخص عبد شر جناب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیرا نام عبد خیر ہے-

مطلب یہ ہے اگر معاویہ کا نام قبیح تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسب دستور اس کو تبدیل فرما دیتے لیکن اسے تبدیل نہیں فرمایا تو یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی تائید ہے اور اس کو محدثین کی اصطلاح میں تقریر سے تعبیر کیا جاتا ہے-

(ابوداؤد شریف صفحہ 329 جلد 2 طبع دہلی تحت کتاب الادب فی تغیر الاسم الاقبیح)

*”معاویۃً” کا نام صحابہ کرامؓ میں*

 نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا نام “معاویۃ” تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پر اسی اسم کا استعمال فرمایا اور اسے تبدیل نہیں فرمایا۔

لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان اصحاب کے نام “معاویۃ” کو تبدیل نہ فرمانا صحت اسم کی قومی دلیل ہے-

ذیل میں بطور مثال چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ذکر کیا جاتا ہے جن کے اسماء گرامی “معاویۃ” تھے-

# معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثور بن عبادہ بن البکاء العامری البکائی۔

#معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حارث بن المطلب بن عبد مناف-(الابہ لابن حجر صفحہ 410 جلد 3 تحت اسماء معاویۃ)

ابن حجر العسقائی رحمہ اللہ نے “الاصابہ” میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ “معاویۃ” کے نام سے ذکر کئے ہیں-

اسی طرح حافظ شمس الدین الذہبی رحمتہ اللہ نے تجرید اسماء صحابۃ میں بہت سی جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی “معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے” کی ہے-

صاحب “تاج العروس” نے لکھا ہے کہ “معاویۃ” نام کے سترہ (17) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ پائے جاتے ہیں-

(تجرید اسماء الصحابۃ صفحہ 89-90/جلد 2 تحت اسماء معاویۃ، تاج العروس الزبیدی صفحہ 259-260 جلد 10 تحت مادہ عوی)

*بصورت الزام شیعہ حضرات کی کتب میں “معاویہ” بطور اسماءالرجال*

معاویہ صحابی رسولۖ :

*معاویۃ بن ام السلمی عدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب رسول اللہ*

معاویۃ شاگرد امیر المؤمنین حضرت علیؓ :

*معاویۃ ابن صعصعۃ ابن اخی الخنف عدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب امیر المؤمنین*

معاویۃ ہاشمی حضرات میں:

*معاویۃ بن عبداللہ بن جعفر الطیار ذاک ولد بعد وفات امیر المؤمنین*

(عمدۃ الطالب صفحہ 38 حت عقب جعفر طیار)

معاویۃ حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگردوں میں:

*معاویۃ بن سعیدالکندی الکوفی عدہ الشیخ فی رجالہ ثارۃ مثل ما فی العنوان فی اصحاب الصادق*

(تنقیح المقال للمامقانی صفحہ 222 جلد 3 تحت یاب معاویۃ)

*معاویۃ بن سلمۃ النضری عدہ الشیخ من رجال الصادق*-

(تنقیح المقال للمامقانی صفحہ 223-224 جلد 3 تحت باب معاویۃ).

مندرجہ بالا مقامات میں معاویۃ کا نام مستعمل ہے اور اسی پر کسی قسم کا طعن معترضین نہیں کیا کرتے تو امیر معاویہ بن ابی سفیان کو کیوں مطعون کیا جاتا ہے؟

اس حکمت عملی کی وجہ کیا ہے؟

*ایک لطیفہ*

ناظرین کرام نے مذکورہ بالا ناموں کو شیعہ کتب سے ملاحظہ فرما دیا ہے

کہ عبداللہ بن جعفر الطیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک فرزند کا نام معاویۃ تھا-

یہاں ہم ناظرین کی ضیافت طبع کے لیے ایک لطیفہ پیش کرتے ہیں- جو شیعہ کے اکابر علماء نے اس مقام میں ذکر کیا ہے-چنانچہ کتاب عمدۃ الطالب میں جمال الدین ابن عنبہ الشیعی ذکر کرتے ہیں کہ

(فولد) عبداللہ عشرین ذکراً و قیل اربعتہ و عشرین منھم معاویۃ بن عبداللہ کان وصی ابیہ و انما سمعی معاویۃ لان معاویۃ بن ابی سفیان طلب سنہ ذالک-فبذل لہ مانتہ الف درھم و قیل الف الف-

(عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب صفحہ 38 قت عقب جعفر الطیار- طبع ثانی-نجف)

یعنی عبداللہ کے بیس یا چوبیس لڑکے پیدا ہوئے ہوئے- ان میں میں سے ایک کا نام معاویۃ بن عبداللہ تھا اور وہ اپنے باپ کا “وصی”تھا اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ امیر معاویہ بن ابی سفیان نے عبداللہ بن جعفر کو ایک لاکھ درہم اور بقول بعض دس لاکھ درہم دیے تاکہ وہ اپنے بیٹے کا نام معاویۃ رکھے-

فلٰہذا عبداللہ بن جعفر الطیار نے اس وجہ سے اپنے بیٹے کا نام معاویۃ رکھا-

مندرجہ بالا روایت کی روشنی میں اکابر شیعہ کے نزدیک آل ابی طالب حضرات کی یہی کچھ حیثیت ہے کہ وہ چند درہم لے کر اپنی اولاد کے اسماء اپنے دشمنوں کے نام کے مطابق رکھ دیتے تھے-(سبحان اللہ).

یہ چیز واضح طور پر ہاشمی حضرات کی کردار کشی ہے جو شیعہ کے اکابر علماء نے بڑے عجیب طریقے سے درج کردی ہے مگر یہ چیز ہمارے نزدیک ہرگز صحیح نہیں-

*علمائے انساب کے نزدیک*

علمائے انساب نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی رملۃ کا نکاح اور شادی مروان بن الحکم کے لڑکے معاویۃ کے ساتھ ذکر کی ہے-عبارت ذیل ملاحظہ فرمائیں –

1- *وتزوج(معاویہ بن مروان بن الحکم)رملۃ بن علی بن ابی طالب بعد ابی الھیاج عبداللہ بن ابی سفیان بن الحارث بن عبدالمطلب*-

(جمہرۃ النساب العرب لابن حزم صفحہ 87 تحت اولاد الحکم بن ابی العاص)-

2- رملۃ بنت علی المرتضیٰ ابو الہیاج کے نکاح میں تھیں اس کے بعد-

*ثم خلف علیھا معاویۃ بن مروان بن الحکم بن ابی العاص*-

(نسب قریش لمصعب الزبیری صفحہ 45 تحت ولد علی بن ابی طالب)-

مندرجہ بالا ہر دو حوالہ جات سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی رملۃ کا معاویۃ بن مروان کے نکاح میں ہونا بین طور پر ثابت ہے-فلٰہذا معاویۃ کا نام قابل طعن وتشنیع نہیں-

مختصر یہ ہے کہ ائمہ کرام کی اولاد، رشتہ داروں، تلامیذ اور خدام وغیرہ میں معاویۃ کا نام مروج و مستعمل اور متد اول ہے-

ان حقائق کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے نام پر اعتراض و طعن قائم کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا-

۔انصاف درکار ہے-

(حقیقی دستاویز سے ماخوذ)

مزید تحقیق کے لیے مندرجہ ذیل کتاب کا مطالعہ کریں

اسم معاویہ (ابومعاویہ مسعود الرحمان)