اعتراض غزوہ بدر میں صحابہ کا خوف اور شیعہ رافضی خیر طلب کے دلائل

شیعہ رافضی کے اعتراضات

×قسط اول غزوہ بدر میں صحابہ کا خوف، عمران خان صاحب کے بیان پر کمنٹ×

ناظرین جیسے ابتدائی طور پر میں عرض کرچکا ہوں کہ عمران خان صاحب نے جو صحابہ کے متعلق کہا اس پر کچھ عرض کروں گا، اصل پوسٹ ادھر دیکھئے:

فیس بک لنک

پیش خدمت ہے عمران خان کا کمنٹ در بابت غزوہ بدر:

(جب جنگ بدر ہوئی تھی تو صرف ٣١٣ تھے لڑنے والے باقی ڈرتے تھے)

تعلیق از خیر طلب:

جنگ بدر میں جب مسلمان جنگ کرنے نکلے تھے تو ان کو دو گروہوں (ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا جو جنگ کرنے کے لئے آرہا تھا) میں سے ایک کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا تو روایت کے مطابق عموما صحابہ ومسلمان تجارتی قافلہ پر حملہ کرکے غنیمت کو لینا چاہتے تھے جب کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنگ کرنے کی طرف تشویق دلارہا تھا، اور اصحاب میں سے بعض کو جنگ پر جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا اور بعض حضرات اپنے خوف کا اظہار بھی کررہے تھے، اس کی تصویر کشی اللہ تعالیٰ نے یوں کی سورہ انفال میں:

كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ﴿٥﴾ يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ ﴿٦﴾ وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّـهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ ﴿٧﴾ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ﴿٨﴾

(ترجمہ جوناگڑھی) جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی (5) وه اس حق کے بارے میں، اس کے بعد کہ اس کا ﻇہور ہوگیا تھا آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیے جاتا ہے اور وه دیکھ رہے ہیں (6) اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے (7) تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں (8)

ناظرین اب ہم کیا قرآنی آیات کا انکار اس مزعوم مقدس مآب عقیدے سارے صحابہ جنتی اور سارے صحابہ نیک کو بچانے میں چھوڑ دیں؟

ناظرین ان میں سے بعض اصحاب کے ڈرنے پر کچھ شواہد عرض خدمت ہیں

شاہد اول: ابن اسحاق کی صحیح روایت:

ابن اسحاق نقل کرتے ہے اس سند کے ساتھ:

قال ابن إسحاق : فحدثني محمد بن مسلم الزهري ، وعاصم بن عمر بن قتادة ، وعبد الله بن أبي بكر ويزيد بن رومان عن عروة بن الزبير وغيرهم من علمائنا عن ابن عباس

ناظرین اس روایت کی سند حد اقل حسن ہے اور مغازی کے میدان میں کہیں تو بالکل صحیح ہے۔ اور روایت کرنے والے ابن عباس ہے، وہ فرماتے ہے:

فخف بعضهم وثقل بعضهم ، وذلك أنهم لم يظنوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يلقى حربا

بعض اصحاب رسول خوف زدہ تھے اور بعض پر بہت گراں گذرا کیونکہ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ رسول ص کی کاروائی میں جنگ کی نوبت بھی آسکتی ہے۔

حوالہ: سیرت ابن ھشام جلد ٢ ص ٢٤٩-٢٥٠ طبع دار الکتاب العربی

اس روایت کو محقق ابراہیم العلی نے اپنی کتاب جو ان کے نزدیک صحیح سیرت نبوی ص پر مشتمل ہے اس میں درج کیا ہے

حوالہ: صحيح السيرة النبوية ص ١٥٩ طبع دار النفائس۔

شاہد دوم: ابن شہاب الزھری اور موسی بن عقبہ کی مشہور روایت

ناظرین ان کی روایت بہت زیادہ مشہور ہے جس کو سیرت نگار بیان کرتے ہے، اگرچہ روایت میں ارسال ہے لیکن چونکہ علماء اس کو قبول کرتے ہیں، اس کی مؤید قرآنی آیات اور صحیح روایت ہے تو اس کو عرض کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں۔ روایت طویل ہے جس میں مشرکین مکہ کی حالت کا بیان ہے، مسلمانوں کی حکمت عملی کا ذکر ہے، دریں اثنا روایت ایک جملہ یہ بھی ہے:

ومعه ثلثمائة وستة عشر رجلا . وفي رواية ابن فليح : ثلثمائة وثلاثة عشر رجلا ، وأبطأ عنه كثير من أصحابه وتربصوا

رسول اللہ ص جب بدر کے لئے نکلے تو ایک روایت کے مطابق ٣١٦ اور ابن فلیح کی روایت کے مطابق ٣١٣ مرد تھے، اور کافی سارے رسول ص کے صحابہ پیچھے رہے گئے اور انتظار کرتے رہے

حوالہ: دلائل النبوتہ جلد ٣ ص ١٠٦ طبع دار الكتب العلمية

اس ہی روایت میں ہے کہ رسول ص نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا تو جناب عمر بن خطاب صاحب نے ایسا مشورہ دیا جو مستحسن نہیں تھا بلکہ کفار کی ماضی کی فتح یابی کی طرف مشار تھا اور پھر حضرت مقداد رض نے مشورہ دیا جس کو رسول ص نے بہت پسند فرمایا۔ تو یہاں پر بھی حضرت مقداد رض کا مشورہ تسلیم حکم نبوی ص کا آئینہ دار تھا جب کہ جناب عمر نے حوصلہ بڑھانے کے بجائے کفار کی فتح یابی کا اشارہ کیا، الفاظ روایت یوں ہے:

فقال عمر بن الخطاب: يا رسول الله إنها قريش وعزها، والله ما ذلت منذ عزت، ولا آمنت منذ كفرت، والله لَتُقاتِلَنْكَ، فتأهب لذلك أهبته وأعدد له عدته.

عمر بن خطاب کہتے ہے کہ اے رسول اللہ! یہ لوگ تو قریش ہے جن کی عزت و مقام ہے، خدا کی قسم جب سے ان کو عزت ملی ہے یہ کبھی ذلت سے ہمکنار نہ ہوئے، اور جب سے انہوں نے کفر اختیار کیا ہے تو کبھی ایمان نہ لائے، لیکن اللہ کی قسم آپ ان سے جنگ کریں گے، تو اس کی خوب تیاری کیجئے اور تعداد شمار کیجئے۔

حوالہ: دلائل النبوتہ جلد ٣ ص ١٠٧ طبع دار الكتب العلمية

تبصرہ: ناظرین یہ مشورہ بھی بڑا عجیب ہے، جو دشمن کی تعریف پر مشتمل ہے جب کہ ادھر ویسا جواب دینا چاہئے تھا جیسے حضرت مقداد بن اسود رض اور حضرت سعد بن معاذ رض نے دیا، خدا ان دونوں اصحاب کو غریق رحمت کرے۔

شاہد سوم: : مفسر ضحاک کا قول

وأخرج ابن أبي حاتم وأبو الشيخ عن الضحاك رضي الله عنه في قوله { وتودون أن غير ذات الشوكة تكون لكم } قال: هي عير أبي سفيان، ودّ أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم إن العير كانت لهم وإن القتال صرف عنهم.

سیوطی کہتے ہے: ابن ابی حاتم اور ابو شیخ نے مفسر ضحاک رضی اللہ عنہ سے آیت { وتودون أن غير ذات الشوكة تكون لكم } کی تفسیر نقل کی اس سے مراد ابو سفیان کا قافلہ ہے، اصحاب محمد چاہتے تھے کہ ان کے لئے تجارتی قافلہ ہو اور ان کو جنگ سے گلوخلاصی ملے۔

حوالہ: الدر المنثور جلد ٧ ص ٤٩-٥٠ طبع مرکز الھجر

حوالہ:  تفسیر ابن ابی حاتم ص ١٦٦١ طبع كتبة نزار مصطفى الباز – الرياض

شاہد چہارم: مفسر قتادہ کی رائے

طبری روایت کو نقل کرتے ہے:

حدثنا بشر بن معاذ، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة، قوله: { وَإذْ يَعِدُكُمُ اللّهُ إحْدَى الطَّائِفَتَـيْنِ أنَّها لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أنَّ غير ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ } قال: الطائفتان إحداهما أبو سفـيان بن حرب إذ أقبل بـالعير من الشأم، والطائفة الأخرى أبو جهل معه نفر من قريش. فكره الـمسلـمون الشوكة والقتال، وأحبوا أن يـلقوا العير، وأراد الله ما أراد.

قتادہ اس آیت کی تفسیر میں { وَإذْ يَعِدُكُمُ اللّهُ إحْدَى الطَّائِفَتَـيْنِ أنَّها لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أنَّ غير ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ }کہ ادھر دو گروہوں سے مراد ایک ابو سفیان بن حرب کا قافلہ تجارت ہے جو شام سے آرہا تھا اور دوسرا ابو جہل اور کے قریشی ساتھیوں کا ہے، تو مسلمانوں (اس زمانہ کے صحابہ از خیر طلب) نے شان و شوکت سے بھربور گروہ (ابوجہلی) سے تعرض اور اس سے جنگ کو ناپسند کیا اور چاہتے تھے کہ ان کے ہاتھ تجارتی قافلہ لگ جائے، لیکن خدا بھی ایک ارادہ رکھتا تھا (مسلمانوں کی خواہش کے برخلاف)

حوالہ: جامع البیان (معروف بنام تفسیر طبری) جلد ١١ ص ٤٤-٤٥ طبع مرکز الھجر۔

کمنٹ: ناظرین اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کی ادھر خوف کی حالت بہت واضح ہے۔ تو پرائم منسٹر عمران خان صاحب نے صحیح فرمایا کہ اس وقت خوف بعض الناس پر قائم تھا لیکن کن پر تھا اس کی تشخیص میں ان سے تھوڑا اختلاف کروں گا لیکن اصولی بات بالکل صحیح ہے۔

خیر طلب۔

الجواب:

ہم سب سے پہلے عمران خان کے اس جملے کو دیکھتے ہیں جو خیر طلب نے نقل کیا ہے۔

(جب جنگ بدر ہوئی تھی تو صرف ٣١٣ تھے لڑنے والے باقی ڈرتے تھے)

!اس جملے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنگ بدر کے دوران نبی کریمﷺ کے ساتھ تین سو تیرا لڑنے آئے تھے باقی مسلمان ڈر کی وجہ سے شریک ہی نہ ہوئے!!!

جبکہ تاریخ کی مسلمہ اور مضبوط حقیقت یہ ہے کہ مدینہ سے نکلتے وقت نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا ٹارگیٹ وہ تجاری قافلہ تھا جو چالیس افراد پر مشتمل تھا اور شام سے مال و زر لے کر واپس مکہ آ رہا تھا، اس قافلے کی آمدنی اسلام کے خلاف استعمال ہونی تھی، اسی لئے اذن الہی سے نبی کریم نے اس قافلہ پر حملہ کر کے وہی آمدنی اسلام کی اشاعت پر خرچ کرنے کا ارادہ کیا۔

♦️ کیا مدینہ سے صحابہ کرام مال غنیمت کے لئے نکلے تھے؟

بالکل اس وقت بہت برے  حالات تھے، مسلمانوں کو مال و زر کی شدید ضرورت تھی ، اللہ عزوجل اور نبی کریم ﷺ کی طرف سے بھی اس تجارتی قافلے پر حملے کا یہی اہم مقصد پیش نظر تھا کہ کفار کا ساز و سامان دین اسلام کے لئے حاصل کیا جائے، اور حق کی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جائے۔

ان سخت حالات میں مال و زر کی شدید ضرورت تھی، تو مال غنیمت کا اعتراض صحابہ کرام پر کرنے سے براہ راست اللہ عزوجل اور نبی کریم ﷺ پر بھی یہی الزام عائد ہوتا ہے۔(معاذاللہ)

اس کے بعد خیر طلب صاحب لکھتے ہیں

جنگ بدر میں جب مسلمان جنگ کرنے نکلے تھے تو ان کو دو گروہوں (ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا جو جنگ کرنے کے لئے آرہا تھا) میں سے ایک کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا تو روایت کے مطابق عموما صحابہ ومسلمان تجارتی قافلہ پر حملہ کرکے غنیمت کو لینا چاہتے تھے جب کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنگ کرنے کی طرف تشویق دلارہا تھا، اور اصحاب میں سے بعض کو جنگ پر جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا اور بعض حضرات اپنے خوف کا اظہار بھی کررہے تھے، اس کی تصویر کشی اللہ تعالیٰ نے یوں کی سورہ انفال میں:

كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ﴿٥﴾ يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ ﴿٦﴾ وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّـهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ ﴿٧﴾ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ﴿٨﴾

(ترجمہ جوناگڑھی) جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی (5) وه اس حق کے بارے میں، اس کے بعد کہ اس کا ﻇہور ہوگیا تھا آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیے جاتا ہے اور وه دیکھ رہے ہیں (6) اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے (7) تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں (8)

خیر طلب نے یہاں دو اعتراضات کئے ہیں۔

1️⃣ صحابہ کرام مال غنیمت کی وجہ سے گھر سے نکلے تھے۔

2️⃣ اصحاب میں سے بعض کو جنگ پر جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا بلکہ خوف زدہ تھے۔

الجواب:

1️⃣ صحابہ کرام مال غنیمت کی وجہ سے گھر سے نکلے تھے۔

یہ الزام براہ راست اللہ عزوجل اور نبی کریمﷺ پر لگایا گیا ہے۔

تفسیر ابن عباس :

شان نزول : (آیت) ” کما اخرجک ربک من “۔ (الخ)

ابن ابی حاتم (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منور میں تھے ہمیں اطلاع ملی کہ ابوسفیان کا قافلہ آرہا ہے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا ارادہ ہے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمیں غنیمت عنایت فرمائے، چنانچہ ہم نکلے اور ایک یا دو دن چلے کہ ابوجہل لشکر لے کر بدر میں آگیا آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کی کیا رائے ہے، ہم نے عرض کیا اس قوم سے قتال کی تو ہماری اندر طاقت نہیں، ہم تو صرف قافلہ کی نیت سے آئے تھے، اس پر حضرت مقداد (رض) نے فرمایا : ایسا مت کہو، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا کہ ” تم اور تمہارا اللہ جاکر لڑو “۔ ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ “۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، اور ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر :

اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سنئے۔ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا کہ ابو سفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا۔ اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہوگیا کہ حضور اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔ اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور مع اپنے اصحاب کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کرلی اور نکل کھڑے ہوئے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہوگیا۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کردی۔ حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئے ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرماں بردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی سے کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے آپ نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو اس سے مراد آپ کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔ دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ مکہ سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کرلیں۔ یہ سمجھ کر حضرت سعد بن معاذ (رض) کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ شاید آپ ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے تو حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا آپ پر ایمان ہے ہم آپ کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کرچکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ ہمارے کام دیکھ کر انشاء اللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہوجاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کرچکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔

♦️ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تجارتی قافلے پر حملے کی نیت سے نکلنے والا مدنی لشکراللہ و رسول کی مرضی کے مطابق مال غنیمت کے لئے ہی نکلا تھا

 صحابہ کرام مدینے سے کافروں سے جنگ کے ارادے سے نکلے ہی نہ تھے اسلئے جنگ کیلئے جو ضروری تیاریاں کرنی چاہیے تھیں نہیں کی تھیں ۔ وہ تو صرف شام سے واپس ہونے والے تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کے خیال سے نکلے تھے اور اسی حساب سے تیاری کی تھی ۔ اسطرح کی تیاری باضابطہ ایک بڑی فوج سے مقابلہ کرنے کیلئے نہیں کی جاتی ۔۔ الغرض ۔۔ صحابہ کرام کو خود حکم رسول سے کراہت نہ تھی اور نہ ہی پیغمبر کے حکم سے ذرہ برابر مخالفت تھی ، بلکہ اصل پریشانی اپنی بےسروسامانی کی تھی ۔

♦️نبی کریمﷺ کے مشورہ طلب کرنے پر جو چند صحابہ پش و پیش کر رہے تھے وہ ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے سست ہورہے تھے کہ ان کے پاس کوئی جنگی ساز و سامان نہ تھا، گھر سے مکمل جنگی تیاری کے ساتھ نہیں نکلے تھے، لڑنے سے ناواقف اور مسکینی حالات اس کی اہم وجہ تھے،

اسی لئے اللہ عزوجل نے اس سست رویہ کے باوجود کوئی ناراضگی نہیں بیان فرمائی بلکہ انہیں مؤمن کہا ہے۔

2️⃣ اصحاب میں سے بعض کو جنگ پر جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا بلکہ خوف زدہ تھے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ تین سو تیرا جب ایک ہزار کے سامنے آجائیں تو انہیں دل میں خوف محسوس نہ ہو!!؟؟

یہ عین فطرت انسانی ہے، لیکن اس خوف کے باوجود صحابہ کرام بغیر کسی جنگی ساز و سامان کے اور بغیر لڑنے کی مہارت کے اس ایک ہزار کے ماہر جنگی لشکر سے گتھم گتھا ہوگئے تھے!!

یہ جذبہ کسی دنیاوی لالچ سے پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی لالچی لوگ اس طرح لڑائی میں کود سکتے ہیں، جب سامنے یقینی موت بھی نظر آ رہی ہو۔

“جب صحابہ کرام کی نظر اس بات پر پڑتی تھی کہ تمام لشکر میں تقریبا تین سوتیرہ ١٣ آدمی تھے اور ستر ٧٠ اونٹ اور صرف دو ٢ گھوڑے اور محض آٹھ ٨ تلواریں تھیں ۔ اور انکے مقابل میں کم وپیش ایک ١٠٠٠ ہزار فراد تمام آلات حرب وضرب سے لیس ہو کر اور جنگی سازوسامان سے آراستہ ہو کر موجود تھے تو ان میں سے بعض افراد اپنی بےسرو سامانی کے سبب شکتہ دل ہوگئے گو انھوں نے حکم رسول کی جان ودل کے ساتھ پوری تعمیل کیلئے اپنے کو تیار کرلیا لیکن بشری تقاضے سے انکو ایسالگا (گویاوہ ہانکے جا رہے ہیں موت کی طرف اور وہ ) موت کی علامتوں کو اپنی کھلی آنکھوں سے (دیکھ رہے ہیں)” (تفسیر اشرفی)

کوئی بھی عام فہم دونوں لشکروں کی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلنا چاہئے تھا!!

اگر اللہ عزوجل کی مدد حاصل نہ ہوتی تو واقعی اس دن اسلام کا آخری دن ہوتا!! معاذاللہ

اور حیرت ہے ان بے عقلوں پر جو ان تین سو تیرا مجاہدوں پر بھی طعن کر کے اپنا دین ایمان خراب کرتے ہیں۔

🔴رافضی خیر طلب کے دئے گئے شواہد🔴

🔶 شاہد اوّل: ابن اسحاق کی صحیح روایت

ابن اسحاق نقل کرتے ہے اس سند کے ساتھ:

قال ابن إسحاق : فحدثني محمد بن مسلم الزهري ، وعاصم بن عمر بن قتادة ، وعبد الله بن أبي بكر ويزيد بن رومان عن عروة بن الزبير وغيرهم من علمائنا عن ابن عباس

ناظرین اس روایت کی سند حد اقل حسن ہے اور مغازی کے میدان میں کہیں تو بالکل صحیح ہے۔ اور روایت کرنے والے ابن عباس ہے، وہ فرماتے ہے:

فخف بعضهم وثقل بعضهم ، وذلك أنهم لم يظنوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يلقى حربا

بعض اصحاب رسول خوف زدہ تھے اور بعض پر بہت گراں گذرا کیونکہ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ رسول ص کی کاروائی میں جنگ کی نوبت بھی آسکتی ہے۔

حوالہ: سیرت ابن ھشام جلد ٢ ص ٢٤٩-٢٥٠ طبع دار الکتاب العربی

اس روایت کو محقق ابراہیم العلی نے اپنی کتاب جو ان کے نزدیک صحیح سیرت نبوی ص پر مشتمل ہے اس میں درج کیا ہے

حوالہ: صحيح السيرة النبوية ص ١٥٩ طبع دار النفائس۔

♦️الجواب:

روایت کے ان جملوں میں نہ صرف صحابہ کرام کا خوف بلکہ اس کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے،اور یہی حقیقت قرآن میں بھی بیان کی گئی ہے۔

خوفزدہ ہونا عین فطرت انسانی ہے اور اس کی اہم وجوہات یہی تھیں کہ دونوں لشکروں کے افرادی و جنگی ساز و سامان میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

🔶 شاہد دوم: ابن شہاب الزھری اور موسی بن عقبہ کی مشہور روایت

ناظرین ان کی روایت بہت زیادہ مشہور ہے جس کو سیرت نگار بیان کرتے ہے، اگرچہ روایت میں ارسال ہے لیکن چونکہ علماء اس کو قبول کرتے ہیں، اس کی مؤید قرآنی آیات اور صحیح روایت ہے تو اس کو عرض کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں۔ روایت طویل ہے جس میں مشرکین مکہ کی حالت کا بیان ہے، مسلمانوں کی حکمت عملی کا ذکر ہے، دریں اثنا روایت ایک جملہ یہ بھی ہے:

ومعه ثلثمائة وستة عشر رجلا . وفي رواية ابن فليح : ثلثمائة وثلاثة عشر رجلا ، وأبطأ عنه كثير من أصحابه وتربصوا

رسول اللہ ص جب بدر کے لئے نکلے تو ایک روایت کے مطابق ٣١٦ اور ابن فلیح کی روایت کے مطابق ٣١٣ مرد تھے، اور کافی سارے رسول ص کے صحابہ پیچھے رہے گئے اور انتظار کرتے رہے

حوالہ: دلائل النبوتہ جلد ٣ ص ١٠٦ طبع دار الكتب العلمية

♦️ الجواب:

اس روایت میں کافی سارے صحابہ پیچھے رہ گئے اور انتظار کرتے رہے، سے خیر طلب صاحب یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے صحابہ جنگ لڑنا نہیں چاہتے تھے !!

♦️ غور طلب بات یہ ہے جن صحابہ کرام نے بدر کی جنگ میں حصہ لیا انہیں تو خیر طلب ڈرپوک ثابت کر رہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے انہیں لڑائی سے بھاگنے والا !!! مطلب وہ کسی بھی حال میں اصحاب رسول کی ہمت و جرآت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں!!

جبکہ حقائق کے مطابق نبی کریمﷺ مدینہ سے نکلتے وقت شام سے لوٹنے والے ایک قافلے پر حملے کے ارادے سے نکلے تھے ، اس وقت کفار سے باقائدہ جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے کئی صحابہ مدینہ میں رہ گئے تھے کیونکہ جس تجارتی قافلہ پر حملہ مقصود تھا ان کی تعداد چالیس کے قریب تھی۔ 

مزید اسی روایت کے ذیل میں حضرت عمر فاروق کے مشورے پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔

پہلے انہی الفاظ کو پڑھتے ہیں جو حضرت عمر فاروقؓ نے بطور مشورہ بیان کئے تھے۔

فقال عمر بن الخطاب: يا رسول الله إنها قريش وعزها، والله ما ذلت منذ عزت، ولا آمنت منذ كفرت، والله لَتُقاتِلَنْكَ، فتأهب لذلك أهبته وأعدد له عدته.

عمر بن خطاب کہتے ہے کہ اے رسول اللہ! یہ لوگ تو قریش ہے جن کی عزت و مقام ہے، خدا کی قسم جب سے ان کو عزت ملی ہے یہ کبھی ذلت سے ہمکنار نہ ہوئے، اور جب سے انہوں نے کفر اختیار کیا ہے تو کبھی ایمان نہ لائے، لیکن اللہ کی قسم آپ ان سے جنگ کریں گے، تو اس کی خوب تیاری کیجئے اور تعداد شمار کیجئے۔

حوالہ: دلائل النبوتہ جلد ٣ ص ١٠٧ طبع دار الكتب العلمية

ان الفاظ سے رافضی خیر طلب نے یہ نتیجہ نکالا ہے۔

🔶 رسول ص نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا تو جناب عمر بن خطاب صاحب نے ایسا مشورہ دیا جو مستحسن نہیں تھا بلکہ کفار کی ماضی کی فتح یابی کی طرف مشار تھا اور پھر حضرت مقداد رض نے مشورہ دیا جس کو رسول ص نے بہت پسند فرمایا۔ تو یہاں پر بھی حضرت مقداد رض کا مشورہ تسلیم حکم نبوی ص کا آئینہ دار تھا جب کہ جناب عمر نے حوصلہ بڑھانے کے بجائے کفار کی فتحیابی کا اشارہ کیا۔

♦️الجواب:

بغض صحابہ جس کے دل میں ہو ، اس کا ذہن مفلوج ہوکر ایسے ہی غلط نتائج نکالتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کا یہ مشورہ کسی بھی طرح غلط نہیں۔

♦️ اس مشورے میں فریق مخالف کی طاقت و قوت کی اہمیت بتائی گئی ہے پھر مکمل تیاری سے تعداد کا اندازہ لگا کر حملہ کا مشورہ دیا گیا ہے۔

♦️ دنیاوی لحاظ سے یہ ایک بہترین مشورہ ہے، کوئی بھی فوجی جنرل اس پر تنقید نہیں کرسکتا۔

♦️ تین سو تیرہ کے لشکر کو اللہ عزوجل کی خاص مدد حاصل نہ ہوتی تو اسلام کی فتح واقعی ناممکن تھی۔

♦️ حضرت عمر فاروقؓ نے حقیقت کو پرکھ کر مشورہ دیا تھا، انہوں نے جنگ نہ کرنے کا مشورہ نہیں دیا تھا اور نہ ہی اس مشورے سے ڈر یا خوف ظاہر ہوتا ہے۔

🔴خیر طلب کا اس روایت پر تبصرہ🔴

🔶 تبصرہ: ناظرین یہ مشورہ بھی بڑا عجیب ہے، جو دشمن کی تعریف پر مشتمل ہے جب کہ ادھر ویسا جواب دینا چاہئے تھا جیسے حضرت مقداد بن اسود رض اور حضرت سعد بن معاذ رض نے دیا، خدا ان دونوں اصحاب کو غریق رحمت کرے۔

♦️الجواب:

خیر طلب کا تبصرہ بذات خود عجیب ہے۔ قریش نبی کریم کا قبیلہ تھا، حالت کفر کے باوجود اس کی عزت و تعظیم مسلم ہے، بصورت دیگر نسب رسولﷺ کی عزت و تعظیم سے ہاتھ اٹھانا پڑے گا۔ معاذاللہ

🔶 شاہد سوم: مفسر ضحاک کا قول

وأخرج ابن أبي حاتم وأبو الشيخ عن الضحاك رضي الله عنه في قوله { وتودون أن غير ذات الشوكة تكون لكم } قال: هي عير أبي سفيان، ودّ أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم إن العير كانت لهم وإن القتال صرف عنهم.

سیوطی کہتے ہے: ابن ابی حاتم اور ابو شیخ نے مفسر ضحاک رضی اللہ عنہ سے آیت { وتودون أن غير ذات الشوكة تكون لكم } کی تفسیر نقل کی اس سے مراد ابو سفیان کا قافلہ ہے، اصحاب محمد چاہتے تھے کہ ان کے لئے تجارتی قافلہ ہو اور ان کو جنگ سے گلوخلاصی ملے۔

حوالہ: الدر المنثور جلد ٧ ص ٤٩-٥٠ طبع مرکز الھجر و تفسیر ابن ابی حاتم ص ١٦٦١ طبع كتبة نزار مصطفى الباز – الرياض

♦️ الجواب:

اس روایت میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے، شروع اسلام میں غربت کا دور تھا، ان حالات میں مسلمانوں کو مال و دولت کی سخت ضرورت تھی، یہی خواہش اللہ عزوجل اور نبی کریمﷺ کی بھی تھی، ورنہ تجارتی قافلے پر حملے کی ضرورت کیا تھی؟

🔶 شاہد چہارم: مفسر قتادہ کی رائے

طبری روایت کو نقل کرتے ہے:

حدثنا بشر بن معاذ، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة، قوله: { وَإذْ يَعِدُكُمُ اللّهُ إحْدَى الطَّائِفَتَـيْنِ أنَّها لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أنَّ غير ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ } قال: الطائفتان إحداهما أبو سفـيان بن حرب إذ أقبل بـالعير من الشأم، والطائفة الأخرى أبو جهل معه نفر من قريش. فكره الـمسلـمون الشوكة والقتال، وأحبوا أن يـلقوا العير، وأراد الله ما أراد.

قتادہ اس آیت کی تفسیر میں { وَإذْ يَعِدُكُمُ اللّهُ إحْدَى الطَّائِفَتَـيْنِ أنَّها لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أنَّ غير ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ }کہ ادھر دو گروہوں سے مراد ایک ابو سفیان بن حرب کا قافلہ تجارت ہے جو شام سے آرہا تھا اور دوسرا ابو جہل اور کے قریشی ساتھیوں کا ہے، تو مسلمانوں (اس زمانہ کے صحابہ از خیر طلب) نے شان و شوکت سے بھربور گروہ (ابوجہلی) سے تعرض اور اس سے جنگ کو ناپسند کیا اور چاہتے تھے کہ ان کے ہاتھ تجارتی قافلہ لگ جائے، لیکن خدا بھی ایک ارادہ رکھتا تھا (مسلمانوں کی خواہش کے برخلاف)

حوالہ: جامع البیان (معروف بنام تفسیر طبری) جلد ١١ ص ٤٤-٤٥ طبع مرکز الھجر۔

♦️الجواب:

یہ روایت بھی باعث طعن نہیں ہے۔ صحابہ کرام بغیر جنگ کے صرف ساز و سامان کی خواہش رکھتے تھے تاکہ ان کی قوت و طاقت میں اضافہ ہوسکے، یہ خواہش دین اسلام کی مضبوطی کے لئے تھی نہ کہ دنیاوی مال و دولت حاصل کر کے عیاشی کرنا مقصود تھا۔

📣خلاصہ:

قارئین آپ نے دیکھا عمران خان تو عالم نہیں ہے ، لیکن شیعہ علمی حلقوں میں مشہور خیر طلب کی اپنی علمی حیثیت کیا ہے اور اس کے دلائل کس درجہ کے ہوتے ہیں پھر ان پر وہ استدلال ایسے بیان کرتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا علمی اعتراض بیان کر رہا ہے۔

آخر میں خیرطلب سے دو اہم سوال

اگر آپ کا اعتراض درست ہے تو براہ کرم ان نکات کی وضاحت کردیں۔

1️⃣ مدینہ سے نکلتے وقت نبی کریمﷺ نے کفار سے باقائدہ جنگ کرنے کا اعلان فرمایا تھا ، اور صحابہ کرام ڈر و خوف سے شامل نہیں ہوئے تھے۔

2️⃣مدینہ سے نکلتے وقت نبی کریمﷺ کا مقصد مال غنیمت حاصل کرنا نہیں تھا۔