اعتراض: سیدہ فاطمہؓ کی تدفین نبی کریمﷺ کے قریب کیوں نہ ہوئی کیا صحابہ ان سے افضل تھے؟

حضرت فاطمہ زہراء ع کا انتقال بقول اہلسنت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوا حضرت ابوبکر کا انتقال ڈھائی برس  کے بعد اور حضرت عمر نے 26 ذوالحجہ 24 ہجری کو انتقال کیا تو کیا وجہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کو جو کافی عرصے کے بعد انتقال کرتے ہیں روضہ رسول میں دفن ہونے کے لئے جگہ مل سکی اور رسول خداؐ کی اکلوتی بیٹی سیدہ طاہرہ ع مادر حسنین ع کو باپ کے پاس قبر کی جگہ نہ مل سکی کیا خود بتول ع نے باپ سے علیحدگی قبر کی وصیت کی تھی یا حضرت علی ع نے حکومت وقت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا یا مسلمانوں نے بنت الرسولؐ کو قبر رسول کے پاس دفن نہ ہونے دیا

الجواب:

شیعہ کے اس سوال سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سارے مذہب کا دارومدار ہی  فاسد  قیاس پر ہے دلیل پر نہیں ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا روضہ رسول میں دفن نہ ہونے میں یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ اس تدفین میں صحابہ کرام آڑے آئے؟؟؟

دونوں سرکار ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تدفین کی طرف اشارہ تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا ایک مرتبہ شیخین کریمینؓ سرکار دو عالم کے اردگرد تھے ایک دائیں طرف دوسرہ بائیں طرف دونوں کے ہاتھوں میں ہاتھ  ڈال کر سرکار دو عالمؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہم قیامت کے روز اپنے قبور سے اسی طرح اکٹھے اٹھیں گے۔

Jam e Tirmazi – 3669

 کتاب: فضائل و مناقب

باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان

ARABIC:

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ،‏‏‏‏ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْقَوِيِّ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ.

TRANSLATION:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ”اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے“۔

جامع ترمذی جلد 2 صفحہ 208 ، مشکاۃ المصابیح صفحہ 620 ، مستدرک جلد 4 صفحہ 280 ، کنزالاعمال جلد 13 صفحہ 17 ، مصابیح السننہ جلد 4 صفحہ 164

ہم نے تو سرکار دو عالمؐ کی معیت میں شیخین کریمین ؓکی تدفین پر صریح روایت پیش کر دی ہے اب تم اپنے موقف کی کوئی  صریح روایت لاؤ مگر یہ تمہارے بس میں نہیں ہے۔

کوئی روایت ایسی لاؤ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ کی روضہ مبارک میں تدفین کا ہی فرمایا ہو اور صحابہ کرام نے انکار کیا ہو

جب ایسی کوئی روایت نہیں ہے تو تمہارا اپنے قیاس فاسد سے جمع و تفریق کرکے عقیدہ باطلہ تیار کرنا باطل و مردود ہے

جس پر علی المرتضی شیر خدارضی اللہ عنہ کی خاموشی و رضا ہے تمہیں  14صدیوں بعد کیوں تکلیف پیدا ہوگئی ہے؟؟

گویا اعتراض ان جلیل القدر صحابہ کرام پر نہیں ہے بلکہ خدا رسول اور علی رضی اللہ عنہ پر ہے

اس سے ثابت ہوا تمہارا دعوی محبت اہلبیت جھوٹا ہے تمہارا یہ کہنا کہ علیحدگی قبر کی وصیت دکھادو بھی غلط ہے اس لئے کہ یہ نہ سہی تو تم وصیت روضہ مبارک میں تدفین ہی دکھادو تمہارے قیاس فاسد سے کچھ ثابت نہیں ہوسکتا

پھر تمہاری شیعہ کی کتاب اعلام الوریٰ صفحہ 158 پر لکھتا ہے کہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق آپ کو پوشیدہ دفن کیا

کیوں شیعہ صاحب اب بولو تمہارا جھوٹ تمہارے اپنے گھر سے ہی ظاہر ہوگیا پھر تمہارے مولوی نجم الحسن کراروی نے لکھا کہ

حضرت علی نے  سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھم کو جنت البقیع میں لے جا کر دفن کیا

چودہ ستارے صفحہ 252

پھر شیخین کریمین کا روضہ مبارک میں دفن ہونے کی دلیل ایک اور ملاحظہ ہو۔

حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ ہر شخص کی قبر وہاں بنتی ہے جہاں جہاں سے اس کا خمیر تیار کیا جاتا ہے۔

مولوی مقبول حسین دہلوی شیعہ منہا خلقناکم کے تحت لکھتے ہیں کہ کافی میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ نطفہ جب رحم میں پہنچ جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیج دیتا ہے کہ اس مٹی میں کہ جس میں یہ شخص دفن ہونے والا ہے تھوڑی سی لے آئے چنانچہ فرشتہ لاکر نطفہ میں ملا دیتا ہے اور اس شخص کا دل اس مٹی کی طرف مائل ہوتا رہتا ہے اس غیرحسی میلان کا ہر شخص کو پتہ نہیں لگ سکتا جب تک کہ اس میں دفن  نہ ہو جائے

ترجمہ مقبول صفحہ 377

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کی ناف میں وہ مٹی ہوتی ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے اور جب وہ ارذل کے طرف لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس مٹی کی طرف لوٹایا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس مٹی میں اس کو دفن کیا جاتا ہے اور میںؐ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور اس مٹی سے ہم اٹھائے جائیں گے

فردوس الاخبار جلد 4 صفحہ 235

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا کہ میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں

فردوس الاخبار جلد 2 صفحہ

305 کنزالعمال جلد 11 صفحہ 259

حضرت انس ؓکی طرح پوری روایت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کنز الاعمال جلد 11 صفحہ 258 اس پر مزید دلائل محفوظ ہیں اختصار مانع ہے تو ان روایات واحادیث سے حضرت ابوبکر عمر ؓکے روضہ مبارک میں دفن ہونے کی وجہ واضح ہوگئی پھر سیدہ فاطمہؓ کے سوا سرکاردوعالمؐ کی تین صاحبزادیاںؓ اور تھی (اصول کافی)

وہ بھی روضہ مبارک میں دفن نہ ہوئیں،  اس سے تنقیص کا نتیجہ نکالنا شیعہ کی جہالت و خباثت ہے