اعتراض: سیدہ عائشہ صدیقہ اور بغیر محرم سفر

شیعہ کا سیدہ عائشہ صدیقہ پر اعتراض

حضرت عائشہ کا یہ سفر بغیر محرم کے تھا لہذا، عند الشرع صحیح نہ تھا۔

الجواب:

یہ بات بالکل غلط ہے۔ اس لیے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ سفر ایک نیک مقصد کے لیے تھا اور شرعی محارم کے ہمراہ تھا، علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ اماں جی کے ساتھ آپ کی بہنوں؛ حضرت اسماء اور ام کلثوم کے صاحبزادے اس سفر میں موجود تھے۔ امام المحدثین حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

دریں سفر عبداللہ بن زبیر ہمشیرہ زادہ حقیقی وے ہمراہ وے بود وطلحہ بن عبیداللہ شوہر خواہرش ام کلثوم بنے ابی بکر وزبیر بن العوام شوہر خواہر دیگرش بود اسمائ بنت ابی بکر واولاد ایں ہر دو نیز ہمراہ بود

تحفہ اثناء عشریہ ص330 طبع لاہور در تحت جواب طعن اول

نیز عظیم مفسر سید محمود آلوسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وکان معہا ابن اختہا عبداللہ بن الزبیر وغیرہ من ابناء اخواتہا ام کلثوم زوج طلحہ واسماء زوج الزبیر بل کل من معہا بمنزلۃ الابناء فی المحرمیۃ وکانت فی ہودج من حدید

روح المعانی ج22ص10 تحت الایۃ وقرن فی بیوتکن

خلاصہ یہ ہے کہ اماں جی رضی اللہ عنہا کا یہ سفر محارم کے ساتھ ہوا تھا۔ اس لیے یہ اعتراض ساقط الاعتبار ہے