اعتراض: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلفاء ثلاثہ کے دور میں جنگوں میں حصہ کیوں نہ لیا؟

شیعہ اعتراض 

اگر حضرت علی ع کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے جبکہ کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی سعادت و عبادت ہے اور اگر کثرت افواج کے وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جمل و صفین اور نہروان کی جنگوں میں خود بنفس نفیس ذوالفقار کو نیام سے باہر نکال کر میدان میں اترے کیا حکومت میں سیف اللہ کا خطاب  کسی اور کو دینا مناسب سمجھا یا خالد بن ولید حضرت علی ع سے زیادہ شجاع بہادر تھے نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے دو مکالمے جو مولانا شبلی نعمانی “الفاروق” کتاب صفحہ 275 پر نقل کیے ہیں پیش نظر رہے حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس کے مکالمے پڑھیں

الجواب:

شیعہ رافضی  کا یہ اعتراض اس کی جہالت و حماقت کو ثابت کرتا ہےاور  تواتر سے جو واقعات ثابت ہیں ان سے انکار ہے

حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلفائے راشدین بالخصوص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے حسین تعلقات ایک مسلمہ حقیقت ہیں، معترض کو چاہئے تھا کہ ان میں  سے کوئی واقعات بسند صحیح پیش کرے جن میں صراحتا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفاء ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر تنقید کی ہو یا ان سے الگ تھلگ رہے ہوں جب ایسا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے تو یہ اعتراض ان کی جہالت اور خباثت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ تو خلفاء ثلاثہ کی شوری میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے ان  کے معتبر قاضی اور مفتی تھے خلفاء کی غیر موجودگی میں ان کی نیابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔

کنزالعمال جلد 3 صفحہ 134

حضرت علی حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر تنقید نہ فرماتے تھے بلکہ اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے تھے ان سے عطایا اور تنخواہیں وصول کرتے تھے بلکہ ذریعہ معاش یہی تھا۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیدنا علی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایرانی باندی شہربانو قبول کر کے سب سادات کی ماں بنا دیا۔

جلاء العیون صفحہ 452

الشافی ترجمہ اصول کافی جلد سوم صفحہ 56،57

 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی لخت جگر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کردیا

مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 204

فروع کافی جلد 2 صفحہ 141

تہذیب الاحکام جلد 9 صفحہ 362

ناسخ التواریخ جلد 3 صفحہ 55  

منتہی الآمال جلد 1 صفحہ 217

منتخب تواریخ صفحہ95

مناقب ابن شہر آشوب جلد 3 صفحہ 204


مزید تفصیل اور ثبوت دیکھیں

سیدہ ام کلثوم بنت علی کا سیدنا عمر فاروق سے بابرکت نکاح (اہل سنت معتبر کتب)

سیدہ ام کلثوم بنت علی کا سیدنا عمر فاروق سے بابرکت نکاح(اہل تشیع معتبر کتب)


حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے کسی امرونہی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اختلاف نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے دور خلافت میں عام قضات کو حکم دیا کہ حسب سابق تم فیصلے کرو اسلئے کہ میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں میں سب کو ایک جماعت کرنا چاہتا ہوں یا میں وصال کر جاؤں جیسے میرے پہلے ساتھی خلفاء انتقال کر گئے

بخاری جلد 1 صفہ 562

یہی شیعہ عالم شوستری نے بیان کیا ہے مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 54

جنگ نہروان کے موقع پر ربیع بن شیبہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے کتاب اللہ وسنت رسول کے بعد حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سنت کا نام لیا تو آپ نے فرمایا بےوقوف اگر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مخالف عمل کیا ہوتا تو وہ حق پر نہ ہوتے یعنی مگر وہ حق پر ہیں

طبری جلد 5 صفحہ 76

گویا ان کا طریقہ سنت نبوی کے موافق اور اس میں ہی مدغم ہے پھر جب بدری صحابہ کرام کے وظائف مقرر ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وظیفہ بھی پانچ ہزار درہم مقرر ہوا حضرت حسنین کریمین کے بدری نہ ہونے کے باوجود قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ان کا بھی پانچ ہزار ہدیہ مقرر ہوا

کتاب الخراج جلد 5 صفحہ 24

اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق نہ تھے اور ان کی جنگیں جہاد نہ تھی تو ان کے غنائم بھی ناجائز ہوئے تو اہل بیت کرام کے لئے حضرت عمر فاروق سے غنائم وہدیہ کس صورت میں جائز ہیں؟؟

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی مدح میں متعدد اقوال نہج البلاغہ و رجال کشی وغیر ہم کتب میں موجود ومرقوم ہیں۔

نہج البلاغہ وغیرہ کتب میں انکی خلافت کی بھی تعریف و تحسین فرمائی ان دلائل کی موجودگی میں شیعہ کا یہ سوال کیا اس امر کا اعلان نہیں کر رہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہ کے دور خلافت میں منافقت کرتے رہے ۔

نعوذ باللہ من ذالک

تو رہا جنگ وجہاد میں عدم شرکت کا بہانہ تو یہ مثبت اختلاف نہیں ہے۔  جیسا کہ آپ وزارت مشاورت جیسے اہم عہدوں کی ذمےداری لے کر خلافت راشدہ کی خدمت کر رہے تھے تو عام سپاہی کی حیثیت سے تلوار لے کر لڑنا کوئی بڑی فضیلت ہے۔

حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالئ عنہ و توان ا ہم مصروفیات کی وجہ سے جنگ وجہاد میں ان دنوں شریک نہ ہوئے تو اس سے خلافت راشدہ کی حقانیت پر حرف نہیں آتا اس لیے کہ حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں فتح افریقہ میں شریک ہوکر باقاعدہ جہاد کیا اور حصہ غنیمت پایا اسی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح قسطنطنیہ میں حسنین کریمین حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔

البدایہ و النہایہ جلد 8 صفحہ 36

حسن بصری  بھی اس دور میں شریک جہاد ہوئے ۔ 

جلاء العیون صفحہ 270

 پھر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو مدائن کا گورنربھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنایا تھا ۔

حیات القلوب جلد 2 ص 651

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معتمد خاص عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا جنگ جمل و صفین میں تو سبائی گروہ کی سازش کی وجہ سے شریک جنگ ہونا پڑا

 حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کا لقب حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں دیا بلکہ خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے

بخاری جلد 1 صفحہ 531 جلد 2 صفحہ 611

حضرت خالد بن ولید حضرت علی (رضی اللہ عنہما) سے شجاع نہ ہو مگر کفار ان کے ہاتھ سے زیادہ قتل ہوئے۔

طبقات ابن سعد جلد2/ 130

 حضرت خالد بن ولید کے لقب سیف اللہ سے ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ پر افضلیت تو ثابت نہیں کرتے بلکہ ان پر علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت ہے  لیکن مولانا شبلی نعمانی کا حوالہ بے کار ہے اس لئے کہ یہ تو خود مردود ہے  ،  طبری سے مکالموں کا حوالہ بھی عبث  ہے اس لئے کہ یہ روایات ناقابل اعتبار ہیں ان کی سند میں مجاہیل راوی موجود ہیں۔  کئی کذاب و مجروح راوی موجود ہیں۔  پہلے مکالمہ کی سند میں عمر علی ابوالولید؟؟؟  ولد طلحہ کا ایک آدمی از ابن عباس ہے۔

طبری جلد 4 ص 244

ان چاروں کے تراجم کتب رجال  اور تہذیب و تقریب میں نہیں ملے تو یہ متعین نہ ہونے کی وجہ سے مجہول ہوئے ۔

دوسرے مکالمہ کی سند میں ابن حمید، سلمہ، محمد بن اسحاق ایک آدمی از عکرمہ طبری جلد 4 صفحہ 243

ایک آدمی از عکرمہ یقینا مجہول ہے محمد ابن اسحاق پر سخت جرح موجود ہے امام مالک اسے دجالوں میں سے دجال بتلاتے

میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ469

اس پر مزید سخت جرح موجود ہے پھر سلمہ بن فضل شیعی تھا ۔ امام بخاری نے کہا ہے اس کے پاس زیادہ منکر روایات تھیں جن کو علی نے کمزور کیا کہا علی نے  کہ ہم نے رے شہر سے نکلتے وقت اس کی حدیثیں وہیں چھوڑ دی تھیں۔  امام ابو زرعہ اس کے کذاب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، امام نسائی ضعیف کہتے ہیں۔  امام ابوحاتم اسے ناقابل احتجاج کہتے ہیں مزید کہتے ہیں کہ اہل رے میں اس کی بد عقیدگی اور ظلم کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے

تہذیب التہذیب جلد 3 صفحہ 53

میزان الاعتدال جلد 2صفحہ 192

ایک اور راوی ابن حمید ہے۔  یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں کہ یہ منکر روایات زیادہ بیان کرتا تھا۔ امام بخاری نے کہا ہے اس کی روایت محل نظر ہیں۔ امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔ جوز جانی کہتے ہیں کہ یہ راوی  المذہب اور غیرثقہ ہے۔ فضل رازی نے کہا کہ میرے پاس ابن حمید کی روایات کردہ 50000 احادیث ہیں جن میں سے میں ایک حرف بھی روایت نہیں کرتا۔  صالح محمد بھی اس کی روایت کو مہتم کرتے ہیں۔  اللہ کے بارے میں بڑا جری تھا۔  ابن خراش نے کہا کہ  حمید ہمیں حدیث سناتا مگر اللہ کی قسم وہ جھوٹ بولتا تھا

تہذیب التہذیب جلد 9 صفحہ 130 اور 129

ایس لچر اسناد والی روایات کے سہارے ہی سے شیعہ اپنا باطل مذہب ثابت کر سکتے ہیں۔