اعتراض حضرت امیر معاویہ کو گدھے سے تشبیہ دی گئی (معاذاللہ)

رافضی اعتراض امیر معاویہ کو گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے (معاذاللہ)

( طحاوی، فیض الباری)

الجواب : فیض الباری کی مذکورہ روایت میں تشبیہہ تو نظر آگئی مگر اسی روایت کی آخری سطر پر جا کر شیعہ رافضی  کی آنکھیں اندھی ہوگئیں ، روشنی کا نور جاتا رہا،  دیکھنے کی قوت سلب ہوگئی اور بالکل اندھے کے اندھا رہ گیا۔

اے کاش ذرا سی آنکھوں کی روشنی اور بھی اسے نصیب ہو جاتی اور وہ یہ الفاظ بھی اسی روایت کے پڑھ لیتا

و راجع تمام السخت تكشف السترفان الكلمة شديدة –

اور اسی روایت سے قبل لکھے ہوئے یہ الفاظ ہیں

’’تسامح عنہ

کہ ان سے تسامح (شائع) ہوا ہے۔

ایسے ہی طحاوی کی جو روایت یہ الزام لگانے کیلئے شیعہ رافضی کو دیکھنا نصیب ہوئی صرف ایک سطر مزید آگے کی بھی پڑھ لیتا جس میں دوسری سند سے روایت لکھ کر بتایا گیا ہے:

فذكر باسناده مثله الا انه لم يقل الحمار۔

کہ یہ لفظ اس دوسری سند کی روایت میں نہیں ہے۔ یعنی یہ روایت دوسری اس سے مضبوط صحیح روایت کے سامنے قابل قبول نہیں ہے۔

مگر صد افسوس الله تعالی کی محبوب عطا اور اتنی پیاری آنکھیں دھوکہ دینے کیلئے اور راہ حق سے ورغلانے کی کوشش میں تو دیکھتی اور بینا ہیں مگر دیانت اور حق بات کے دیکھنے میں اندھی اور بے نور ہیں۔ اور بے چاری آنکھیں کیا کریں جن کو نور بصیرت نصیب نہ ہو وہ اس  نور بصارت سے  ناجائز اور غلط  کام ہی لے سکتا ہے۔

ارباب بصیرت نوٹ فرمالیں کہ روایت ہذا کا اضطراب وضعف مذکورہ کی صفحہ عکسی پر انہیں حضرات نے قلم فرما دیا ہے اگر اس روایت کے مطلوبہ الفاظ لے کر یار لوگوں نے الزام داغ ۔دیا اور انہیں صفحوں پر جو روایت کی صورت حال تھی اسے چھوڑ دیا اسے کہتے ہیں امانت و دیانت کا قتل عام

اسی اعتراض پر ایک عالم دین کا تفصیلی جواب اس وڈیو میں ملاحظہ فرمائیں۔

وڈیو ڈاؤن لوڈ