اعتراض حضرت امیر معاویہؓ نے بت فروشی کر کے بت پرستی میں مدد کی (معاذاللہ) کتاب المبسوط

*افتراء*

حضرت امیر معاویہ نے بت فروشی کر کے بت پرستی میں مدد کی ہے (معاذاللہ)۔(کتاب المبسوط)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 4

🔺شیعہ الزام🔺
امیر معاویہ نے بت فروشی کر کے بت پرستی میں مدد کی ہے۔(کتاب المبسوط)

🔹جواب اہلسنّت🔹

بعض قیمتی قسم کے بت مال غنیمت میں حاصل ہوئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کفار کے ہاتھ ان کو بیچنے کا حکم دیا، جن کفار کو یہ بت فروخت کئے گئے وہ کفار ان بتوں سے قبل بھی بتوں کی پوجا ہی کرتے تھے اگر بالفرض یہ بت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نہ فروخت کرواتے تو بھی وہ بت پرستی کو چھوڑنے والے نہ تھے الغرض ہندوستان کے بت پرستوں کا یہ عمل نہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بت بیچنے سے بڑھا اور نہ کم ہوا البتہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بت پرستوں کو ان کے بت فروخت کرکے حاصل شدہ رقم سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور فقراء و غریبوں کی ضروریات کو پورا فرمایا نہ یہ فعل حرام ہے اور نہ ہی قرآن پاک کی یا حدیث پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سے مخالفت لازم آتی ہے بلکہ گندے لوگوں کو ان کی گندی چیز دے کر اس سے مسلمانوں کی کفالت کی گئی ہے اس میں کونسی قباحت ہے؟