اعتراض حضرت امیر معاویہؓ شراب پیتا تھا (معاذاللہ) مسند امام احمد بن حنبل

حضرت امیر معاویہ شراب پیتے تھے اور صحابہ کو بھی اپنے ساتھ پلانا چاہتے تھے معاذ اللہ (مسند امام بن حنبل)

 مسند احمد میں با سند صحیح روایت  ہے۔

ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ – ﺑﺎﻗﻲ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭ –

ﺣﺪﻳﺚ ﺑﺮﻳﺪﺓ ﺍﻷﺳﻠﻤﻲ ( ﺭ ) 22432 –

ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ ، ﺣﺪﺛﻨﻲ : ﺣﺴﻴﻦ ، ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺑﺮﻳﺪﺓ ﻗﺎﻝ : ﺩﺧﻠﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﺃﺑﻲ ﻋﻠﻰ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻓﺄﺟﻠﺴﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻔﺮﺵ ﺛﻢ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﻄﻌﺎﻡ ﻓﺄﻛﻠﻨﺎ ، ﺛﻢ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﺸﺮﺍﺏ ﻓﺸﺮﺏ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ، ﺛﻢ ﻧﺎﻭﻝ ﺃﺑﻲ ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ : ﻣﺎ ﺷﺮﺑﺘﻪ ﻣﻨﺬ ﺣﺮﻣﻪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ( ﺹ ) ، ﻗﺎﻝ : ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻛﻨﺖ ﺃﺟﻤﻞ ﺷﺒﺎﺏ ﻗﺮﻳﺶ ﻭﺃﺟﻮﺩﻩ ﺛﻐﺮﺍً ﻭﻣﺎ ﺷﻲﺀ ﻛﻨﺖ ﺃﺟﺪ ﻟﻪ ﻟﺬﺓ ﻛﻤﺎ ﻛﻨﺖ ﺃﺟﺪﻩ ﻭﺃﻧﺎ ﺷﺎﺏ ﻏﻴﺮ ﺍﻟﻠﺒﻦ ﺃﻭﺇﻧﺴﺎﻥ ﺣﺴﻦ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻳﺤﺪﺛﻨﻲ .

الجواب:

سب سے پہلے یہ روایت مع تخریج ملاحظہ ہو:

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ ” أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي، ثُمَّ قَالَ: مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ، أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي

[مسند أحمد ط الرسالة 38/ 26 واخرجہ ایضا أبو زرعة الدمشقي في تاريخه١/ ١٠٢، وعنہ ابن عساكر٢٧/١٢٧من طريق احمدبہ ]۔

ترجمہ: صحابی رسول عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں بسترپربٹھایا ، پھرہمارے سامنے کھانا حاضرکیا جسے ہم نے کھایا ، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا اورپھر میرے والد کو پیش کیا ، اوراس کے بعد کہا : میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قریش کے نوجوانوں میں سب سے خوبصورت تھا اورسب سے عمدہ دانتوں والا تھا ، جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسان کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں‌ لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔

تحقیق کے مطابق مذکورہ روایت ان الفاظ کے ساتھ منکروضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی زید بن حباب صدوق وحسن الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب اوہام واخطاء تھے جیسا کہ متعدد محدثین نے صراحت کی ہے،

مثلا امام احمدرحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كَانَ رجل صَالح مَا نفذ فِي الحَدِيث إِلَّا بالصلاح لِأَنَّهُ كَانَ كثير الْخَطَأ قلت لَهُ من هُوَ قَالَ زيد بن الْحباب

[العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله 2/ 96]۔

امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275)نقل کرتے ہیں:

سمعت أحمد قال زيد بن الحباب كان صدوقا وكان يضبط الألفاظ عن معاوية بن صالح ولكن كان كثير الخطأ

[سؤالات أبي داود لأحمد ص: 319]۔

  روایت کے کچھ ایسے راوی ہیں جن پر ارباب علم نہ جرح کی اور ناقابل اعتماد بتایا اُن میں زید بن الحباب مختلف الخبر ہے.

ابن معین کہتے ہیں کہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے اس کی روایت الٹ پلٹ کی ہوئی ہیں

امام احمد کہتے ہیں کہ صدوق بہت غلطیاں کرنے والا ہے

ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی حدیث انوکھی ہیں

میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 100

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں “یخطی فی حدیث الثوری”

تقریب التہذیب جلد 1 صفحہ ص 327 تحت حرف الزائی

نمبر 2130 حدیث مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت (لبنان)

دوسرا راوی “حسین” ہے یہ راوی مجہول ہے

میزان الاعتدال جلد 1 صفحہ 550 پر اسے بعض روایات میں منکر ہے،  بتایا گیا ہے

امام ابو حاتم نے فرمایا ہے کہ یہ کوئی قوی نہیں ہے

(  یہ روایت الحاق سے خالی نہیں کیونکہ یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ اور مجمع الزواہد میں پائی جاتی ہیں مگر *ما شربتہ منذ رسول اللہ* کے الفاظ نہیں ہیں

مجمع الزوائد ہیثمی جلد 5 صفحہ صفحہ 46 بحوالہ سیرت امیر حضرت امیر معاویہ 226

معلوم ہوا کہ ان میں راویوں نے اپنی طرف سے کچھ الفاظ ملا دہے ہیں

(2) یہاں جس چیز کے پینے کو بتایا جارہا ہے وہ نشہ والی شراب نہ تھی بلکہ نبیذ تھا جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پانی میں کھجور ڈال کر رکھی جاتی ہیں جب وہ پانی کھجوروں کی وجہ سے میٹھا ہو جائے تو اسے پی لیتے ہیں یہ بھی دراصل میں نبیذ تھا جو شراب نہ تھا ورنہ خود ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں مے فرمایا *کل مسکر حرام* ہر نشہ آور چیز حرام ہے جس چیز کو وہ خود حرام بتا رہے ہیں اسے استعمال کرنا بعید از عقل ہے۔

معلوم ہوا کہ زید بن حباب کے صدوق وحسن الحدیث ہونے کے باوجود بھی ان سے اوہام واخطاء کا صدور ہوتا تھا ، لہذا عام حالات میں ان کی مرویات حسن ہوں گی لیکن اگرکسی خاص روایت کے بارے میں محدثین کی صراحت یا قرائن وشواہد مل جائیں کہ یہاں موصوف سے چوک ہوئی ہے تو وہ خاص روایت ضعیف ہوگی ۔ اورمذکورہ روایت کا بھی یہی حال ہے کیونکہ زید بن حباب نے ابن ابی شیبہ سے اسی روایت کو اس طرح بیان کیا ہے:

امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235)نے کہا:

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَأَجْلَسَ أَبِي عَلَى السَّرِيرِ وَأَتَى بِالطَّعَامِ فَأَطْعَمَنَا، وَأَتَى بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «مَا شَيْءٌ كُنْتُ أَسْتَلِذُّهُ وَأَنَا شَابٌّ فَآخُذُهُ الْيَوْمَ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِنِّي آخُذُهُ كَمَا كُنْتُ آخُذُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ وَالْحَدِيثُ الْحَسَنُ

[مصنف ابن أبي شيبة: 6/ 188]۔

ترجمہ: صحابی رسول عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں چارپائی پربٹھایا ، پھرہمارے سامنے کھانا لائے جسے ہم نے کھایا ، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا ، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں‌ لذت نہیں محسوس ہوتی تھی،اورآج بھی میرا یہی حال ہے۔

غورکریں یہ روایت بھی ’’زید بن حباب ‘‘ ہی کی بیان کردہ ہے لیکن اس میں وہ منکرجملہ قطعا نہیں ہے جوامام احمد کی روایت میں ہے ، معلوم ہوا کہ زید بن حباب نے کبھی اس روایت کو صحیح طورسے بیان کیا ہے جیسا کہ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ، اورکبھی ان سے چوک ہوگئی ہے جیسا کہ مسند احمد کی روایت میں ہے۔ اورچونکہ مسند احمد کی روایت میں ایک بے جوڑ اوربے موقع ومحل جملہ ہے اس لئے یہی روایت منکرقرار پائے گی۔

چنانچہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی جب اس روایت کومجمع الزوائد میں درج کیا تو منکرجملہ کو چھوڑدیا،

امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے لکھا:

عن عبد الله بن بريدة قال: دخلت مع أبي على معاوية فأجلسنا على الفراش ثم أتينا بالطعام فأكلنا ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية ثم ناول أبي ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغراً وما من شيء أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن وإنسان حسن الحديث يحدثني. %رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح وفي كلام معاوية شيء تركته، [مجمع الزوائد للهيثمي: 5/ 55]۔

فائدہ: اس روایت کی تخریج کرنے والے امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو منکرقراردیا ہے،

چنانچہ: امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:

حسين بن واقد , له أشياء مناكير.

[سؤالات المیمونی:444]۔

ایک اورموقع پرکہا:

ما أنكر حديث حسين بن واقد وأبي المنيب عن بن بريدة

[العلل ومعرفة الرجال 1/ 301]۔

نیز فرمایا:

عبد الله بن بريدة الذي روى عنه حسين بن واقد ما أنكرها وأبو المنيب أيضا يقولون كأنها من قبل هؤلاء

[العلل ومعرفة الرجال 2/ 22]۔

عرض ہے کہ حسین بن واقد ثقہ راوی ہیں اوران کی مذکورہ روایت ابن ابی شیبہ کے یہاں جن الفاظ میں ہے اس میں کوئی نکارت نہیں ہے لہٰذا وہ روایت صحیح ہے جب کہ مسند احمد کی زیربحث روایت ضعیف ہے کیونکہ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے اورآپ نے حسین بن واقد کی مرویات کو منکرقراردیا ہے۔

ہمارے نزدیک راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ زیربحث روایت میں نکارت کا ذمہ دار حسین بن واقد نہیں بلکہ زید بن الحباب ہے۔

متن روایت کا مفہوم اس حدیث کے منکروضعیف ہونے کے باوجود بھی اگرچہ اس میں ایک بے جوڑ اوربے موقع ومحل جملہ ہے، پھربھی اس جملہ سے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا شراب پینا قطعا ثابت نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ سائل نے زیربحث روایت کا جو ترجمہ پیش کیا ہے وہ قطعا درست نہیں،اس میں درج ذیل غلطیاں ہیں:

پہلی غلطی: متن حدیث میں مذکور ’’شراب‘‘ کا ترجمہ اردو والے شراب سے کرنا غلط ہے کیونکہ اردو میں جسے شراب کہتے ہیں اس کے لئے عربی میں ’’خمر‘‘ کالفظ استعمال ہوتا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ’’شراب‘‘ کا ترجمہ ’’مشروب‘‘ سے کیا جائے گا یعنی پینے کی کوئی چیز۔

دوسری غلطی: متن کا یہ جملہ ’’جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے اسے نہیں پیا‘‘ صحابی رسول بریدہ رضی اللہ عنہ کا مقولہ نہیں ہے جیسا کہ سائل کے پیش کردہ ترجمہ میں ہے بلکہ یہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا مقولہ ہے جیسا کہ سیاق سے صاف ظاہر ہے ۔

ان دونوں غلطیوں کی اصلاح کے بعد حدیث مذکور کا صحیح ترجمہ اس طرح ہوگا:

صحابی رسول عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں بسترپربٹھایا ، پھرہمارے سامنے کھانا حاضرکیا جسے ہم نے کھایا ، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا اورپھر میرے والد کو پیش کیا ، اوراس کے بعد کہا : میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قریش کے نوجوانوں میں سب سے خوبصورت تھا اورسب سے عمدہ دانتوں والا تھا ، جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسان کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں‌ لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔

مشروب یعنی پینے والی چیز کیا تھی ؟

مذکورہ روایت میں ’’شراب‘‘ سے مراد کوئی حلال مشروب یعنی پینے والی چیز تھی اس سے اردو والا شراب یعنی ’’خمر‘‘ مراد لینا کسی بھی صورت میں درست نہیں ، نہ سیاق وسباق کے لحاظ سے اس کی گنجائش ہے اورنہ ہی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کی امید ہے۔

بلکہ اردو والا شراب یعنی ’’خمر‘‘ مراد لینے سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ  بریدہ رضی اللہ عنہ پربھی حرف آتا ہے کہ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ایسے مشروب کو کیوں لیا جو حرام تھا ، بلکہ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا بھی کیونکرگوارا کیا جس پرشراب (خمر) کا دور چلتا ہو، کیونکہ ایسے دسترخوان پربیٹھنا کسی عام مسلمان کے شایان شان نہیں چہ جائے کہ ایک صحابی اسے گوارکریں ۔

مزید یہ کہ ایسے دسترخوان پربیٹھنے کی ممانعت بھی وارد ہوئی ہے اس سلسلے کی مرفوع حدیث (ترمذی2801 وغیرہ) اگرچہ ضعیف ہے لیکن خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے موقوفا یہ ممانعت بسند صحیح منقول ہے ،

چنانچہ: امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211)نے کہا:

أخبرنا معمر عن زيد بن رفيع عن حرام بن معاوية قال كتب إلينا عمر بن الخطاب لا يجاورنكم خنزير ولا يرفع فيكم صليب ولا تأكلوا على مائدة يشرب عليها الخمر وأدبوا الخيل وامشوا بين الغرضين

[مصنف عبد الرزاق: 6/ 61 واسنادہ صحیح]۔

معلوم ہواکہ مذکورہ روایت میں مشروب سے خمر مراد لینا کسی بھی صورت میں درست نہیں ۔ اسی طرح اس سے نبیذ مراد لینا بھی درست نہیں بہرحال ’’شراب‘‘ُ کا ترجمہ نبیذ سے کرنا غلط ہے کیونکہ اول شراب کا معنی نبیذ نہیں ہوتا ، دوم روایت کے سیاق وسباق میں بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ پینے والی چیز نبیذ تھی ۔

بلکہ روایت کے اخیر میں دودھ کا ذکر ہے اورامیرمعایہ رضی اللہ عنہ نے دودھ اپنا پسندیدہ مشروب بتلایا ہے اس سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے دودھ ہی پیا تھا یعنی شراب سے مراد دودھ ہی ہے۔

چنانچہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو نقل کرکے اس پر یہ باب قائم کیا ہے:

باب ما جاء في اللبن

[مجمع الزوائد للهيثمي: 5/ 55]۔

میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ وضاحت کیوں کی؟

مذکورہ روایت کی بیچ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی جو یہ وضاحت کی ہے کہ: میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا

اس وضاحت میں جس چیز کے پینے کی بات ہورہی ہے وہ خمر یعنی شراب ہی ہوسکتی ہے کیونکہ اسے ہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ہے۔

اور’’ما شربته ‘‘ میں جو ضمیر ہے اس کا مرجع محذوف ہے اور وہ خمر ہے ، اہل عرب کبھی کبھی ضمیر کے مرجع کو حذف کردیتے ہیں ، بلاغت کی اصطلاح میں اسے ’’ الإِضمار في مقام الإِظهار ‘‘ کہتے ہیں یعنی جس ضمیرکا مرجع معلوم ہو اس مرجع کو بعض مقاصد کے تحت حذف کردینا ، اورمعاویہ رضی اللہ عنہ نے یہاں ضمیرکے مرجع خمرکو حذف کیا ہے ، اورمقصد خمر کی قباحت و شناعت کا بیان ہے یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خمر سے اتنی نفرت تھی کہ آپ نے اس کا نام تک نہیں لیا ۔

اس سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اورشراب سے ان کی نفرت ظاہر ہوتی ہے۔

اورشراب سے نفرت کا اظہار کرکے معاویہ رضی اللہ عنہ نے دودھ کواپنا پسندیدہ مشروب قرار دیا،

اس سے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ بلکہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھی وضاحت کہ قبل ازاسلام بھی ان کے نزدیک دودھ ہی سب سے پسندیدہ مشروب تھا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا ، بلکہ اس کے بجائے وہ دودھ ہی نوش فرماتے تھے۔

یاد رہے کہ معراج میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب اور دودھ پیش کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو منتخب کیا ،

بخاری کے الفاظ ہیں:

ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ: فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ، فَقَالَ: اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ: أَخَذْتَ الفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ

[بخاری رقم 3394].

معلوم ہوا کہ دودھ کو پسند کرنے میں معاویہ رضی اللہ عنہ فطرت پر تھے یہ چیز بھی ان کے فضائل میں سے ہے، والحمدللہ۔

اب سوال یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ وضاحت کیوں کی ؟؟؟

تو عرض ہے کہ مذکورہ روایت میں اس کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے اسی لئے ہم نے شروع میں کہا کہ یہ وضاحت محمود ہونے کے باوجود بھی بے موقع ومحل ہے۔

مسند احمد کے معلقین لکھتے ہیں:

وقوله: “ثم قال: ما شَرِبتُه منذ حرَّمَه رسولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” أي: معاوية بن أبي سفيان، ولعله قال ذلك لِما رأَى من الكراهة والإنكار في وجه بريدة، لظنِّه أنه شرابٌ مُحرَّم، والله أعلم.

ترجمہ: معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ: ’’میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا‘‘ غالبا یہ بات معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہی جب انہوں نے بریدہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کراہت و ناپسندیدگی کے آثاردیکھے بریدہ رضی اللہ عنہ کے اس گمان کی وجہ سے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حرام مشروب دے دیا ہے،والله أعلم[مسند أحمد ط الرسالة (38/ 26)].

عرض ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ وضاحت کی یہ توجیہ کرنا غلط ہے کیونکہ اول تو صحابہ کرام سے یہ توقع نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں اس طرح کی بدگمانی میں مبتلا ہوجائیں ، نہ تو بریدہ رضی اللہ عنہ ، ایک جلیل القدر صحابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دسترخوان پرشراب کا شبہہ کرسکتے ہیں اورنہ ہی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اس سوء ظن میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ بریدہ رضی اللہ عنہ کی کسی ناپسندیدگی کی وجہ، معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ان کی بدگمانی ہے۔

لہٰذا مسند احمد کے معلقین نے جو توجیہ پیش کی ہے وہ ہماری نظر میں بالکل درست نہیں۔ بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ ممکن ہے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کچھ منافقین نے یہ افواہ اڑا رکھی ہو کہ وہ شراب پیتے تھے اس لئے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اپنے مہمانوں کے سامنے وضاحت کرتے رہے ہوں ، اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں حالات کیا تھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے دشمنان اسلام اورمنافقین نے جوکچھ کیا وہ تاریخ میں محفوظ ہے اس لئے بعید نہیں سلف کے کردار کو مجروح کرنے کے لئے ان کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا گیا ہو جس ۔۔طرح ان کے بارے میں ظالموں اورفاسقوں بلکہ کفار و منافقین نے شراب خوری وغیرہ کی تہمتیں لگائی ہیں اوران کے ہم نوا آج بھی ایسا کررہے