اعتراض حضرت امیر معاویہؓ سود خور تھا (معاذاللہ)

اعتراض

امیر معاویہ سود خور تھا

( ابن ماجہ، السنن الکبریٰ، طحاوی )

الجواب:

خوفِ آخرت نہ ہو تو بندہ بڑے سے بڑا جھوٹ بول کر بھی مطمئن ہی رہتا ہے کہ کس نے دیکھا اور کس کو پتہ!

ورنہ آخرت کا ڈر رکھنے والے یوں بے خوفی سے جھوٹ پر جھوٹ نہیں بولتے

ملاحظہ فرمائیں یہ بات کو توڑ مروڑ کر الزام تھونپنے کی کیسی کیسی کوششیں کی جاتی ہیں

امام ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سونے کو سونے کے مقابلے میں فروخت کرنے پر اعتراض کیا اور اور نکیر فرمائی مگر حقیقت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس کی بیع کی تھی وہ ایک ہار تھا جس میں سونا نہیں تھا بلکہ سونے کے علاوہ دیگر ہیرے جواہرات وغیرہ بھی تھے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو 600 کے بدلے خریدا اس میں سود کا تصور بھی نہیں چہ جائے کہ سود ہو

2. اگر کوئی ایسی چیز ہو جس میں سونا اور اس کے علاوہ دوسری کوئی چیز جڑی ہوئی ہو تو اس کی بیع کمی پیشی سے کرنا جائز ہے اس کی دلیل امام طحاوی رحمہ اللہ نے   حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کیا ہے کہ ایک تلوار جس کے دستے پر سونے کا کام کیا ہوا تھا وہ خریدی تھی اس کی قیمت اس سونے کے برابر نہ تھی معلوم ہوا ایسی چیز جس پر سونا اور بھی کچھ ہو تو اس کی بیع جائز ہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا تھا جس پر یار لوگوں نے تعصب کے عینک لگا الزام تراش نکالا ہم اس مسئلے پہ دوسری پوسٹ میں چند معروضات بھی پیش کرچکے ہیں ۔

ملاحظہ فرمائیے


حضرت امیر معاویہ پر سود کھانے کا جھوٹا الزام (مولانا علی معاویہ)


۔خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز کو رافضیوں نے سود قرار دیا ہے وہ سود ہی نہیں محض سینہ زوری سے الزام کی بھرمار مار دی ہے