اعتراض: حضرت ابوبکرصدیقؓ جنگ سے بھاگ گئے تھے۔ (تاریخ الخلفاء ازالہ الخفاء تاریخ الخميس)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر شیعہ الزام نمبر۔2

🔺شیعہ الزام 👇👇
اعتراض: حضرت ابوبکرصدیقؓ  جنگ سے بھاگ گئے تھے۔
(تاریخ الخلفاء ازالہ الخفاء تاریخ الخميس)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

رافضی دجل کے بے شمار نمونوں میں ایک مثال یہ بھی ہے جو شیعہ کتاب تحقیقی دستاویز پر اس سرخی کو قائم کر کے اختیار کی گئی کہ وہ جنگ سے بھاگ گئے تھے حالانکہ بھاگ جانا کسی بھی روایت میں موجود الفاظ کا ترجمہ نہیں ہے بلکہ یہ ترجمہ گندے دماغ کی پیداوار ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اس واقعہ کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
پھر تم کو خدا نے کافروں سے پھیر دیا تا کہ تم کو آزمائے پھر بے شک اس نے تم کو معاف کر دیا اور اللہ تعالی ایمان والوں پر بڑے فضل والے ہیں لغت میں صرف یصرف کا معنی بھاگ جانا کسی نے بھی نہیں لکھا اور نہ یہ معنی اس لفظ کا بنتا ہے بلکہ ارباب لغت نے اس کا معنی یوں لکھا ہے المنجد صفحہ ٦۶۳
🔹صرف (ض) صرفاً واپس کرنا ہٹانا۔
🔹صرف المال: مال خرچ کرنا ،
🔹صرف الدنانیر، دیناروں کو دراہم سے یا دوسرے دیناروں سے بدلنا ( قاموس الوحید ص (٩٢١)
🔹صرف الشی صرفا ہٹانا الگ کرنا۔
🔹صرف عن کذا کام سے روکنا باز رکھنا۔

🔺اب قرآن کریم میں جو یہ متعدی استعمال ہوا اہل علم فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم نے رسول ﷺ کے حکم کو کما حقہ نہ مانا تو تم کو کفار کے ساتھ جنگ سے ہٹا دیا ۔ یعنی جس میدان میں ابتداً جنگ شروع ہوئی تھی وہاں سے ہٹا دیا تو یہاں میدان میں ہتانا مراد ہے نہ کہ جنگ سے چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس میدان سے ہٹ گئے جس میں لڑائی شروع ہوئی تھی اور احد کے دامن میں محفوظ جگہ کو جنگ کا میدان بنا کر ایسا لڑے کہ مکہ سے آنے والے کفار دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تو یہاں سے معلوم ہوا “انصرف” کا مستثنیٰ بھاگنا نہیں جیسا کہ روافض شیعہ لوگوں نے کرم فرمائی کی ہے بلکہ یہ صرف دھوکہ ہے جو دین کے نام پر دینے رہنا رافضی لوگ اپنا فرض جانتے ہیں۔

🔹(٢) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ جو روایت میں ہیں وہ متعدی نہیں لازمی ہیں ملاحظہ ہوں
انصرف الناس كلهم عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فكنت اول من فار۔
جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ سب لوگ حضور ﷺ سے ہٹ گئے میں سب سے پہلے جانے والوں میں سے میں آپ سے ملا ان الفاظ پر غور فرمائیں جو معنی و مطلب روافض نے اپنایا ہے کیا وہ ان الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے؟
اس کا معنی منتشر ہونا تو کیا جا سکتا ہے بھاگ جانا نہیں کیا جا سکتا صحابہ کرام منتشر ہوئے مگر منتشر ھونا اور بھاگ جانا دو الگ الگ باتیں ہیں منتشر ہونا بکھر جانا تو میدان کے اندر ہی ہوتا ہے اور بھاگ جانا کا مطلب یہ ہے کہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے بھاگنے کیلئے عربی میں ’’فر، یفر کا لفظ آتا ہے جبکہ یہاں فر، یفر ، فرار کا لفظ نہیں تو پھر اس کا معنی بھاگ گئے کرنا سوا دھوکہ کے کچھ نہیں۔

(٣) منتشر ھونا بھی ایک خاص سبب سے ہوا اور پھر اللہ تعالی نے اس غلطی کو بھی معاف فرما دیا و لقد عفاء عنکم۔ اور جس کا حق تھا اُس نے جب معاف فرما دیا تو اس پر ایسے طعن کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک قبطی کو مُکا مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کا تذکرہ قرآن میں مختلف مقامات پر موجود ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توبہ کی اللہ پاک نے معاف فرما دیا اب اگر کوئی اس بات کی بنا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر طعن کرے تو اس کا یہ فعل کفریہ عقیدہ ہو گا ایسے ہی صحابہ کرام کا معاملہ جب اللہ تعالی نے صاف فرما دیا تو اب اس معاملہ کو پھر سے اچھالنا شرعا اخلاقاً کی طرح بھی درست اور جائز نہیں ہے۔