اعتراض:حضرت علی نے حضرت ابو بکر کو گالیاں دیں۔ (الحسن و الحسین)

شیعہ اعتراض
حضرت علی نے حضرت ابو بکر کو گالیاں دیں۔
(الحسن و الحسین)

الجواب:

(١) مصر کا صحافی محمد رضاء نا کوئی متقی عالم و پرہیز گار بزرگ ہے اور نہ ہی معتبر دین دار شخص بلکہ یہ ایک صحافی ہے ان صحافیوں جیسا جو مذہب کو بلیک میل کرتے ہیں اور روپیہ پیسہ جمع کرتے ہیں اس طرح کے کئی مودودی وغیرہ بے چارے تاریخ کی شاہراہ میں دھکے کھاتے پھرتے میں جو فصلو و اضلوا کا شکار خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ
کرتے ہیں ہم تو ایسے لوگوں سے مسواک کرنے کا مسئلہ بھی نہیں پوچھتے اور بالفرض یہ صاحب لوگ اپنی حماقت والی پنٹ شلٹ سمیت کسی مسجد میں جا کر قاعدہ سپارہ پڑھنے والے بچوں کو مسواک کا طریقہ بتانا شروع بھی کر دیں ، تو وہ معصوم بچے بھی ایک مسواک کے طریقہ استعمال کے بارے میں اعتبار نہیں کرتے بلکہ الٹا اس کی پینٹ دیکھ کر مذخ
میں قہقہہ مار کر ہنس دیتے ہیں کہ بابو جی آپ کا یہ کام نہیں بلکہ یہ کام تو ٹوپی عمامہ والے اس خاک نشین کا ہے جو عالم اسباب میں فقیر و غریب لگتا ہے تو جب معصوم بچے ایک مسواک کے بارے میں اور قاعدہ کی الف یا پڑھانے کے بارے میں اس بابو جی پر اعتماد نہیں کرتے پھر تاریخ کے نازک ترین روڈ پر اس سارجنٹ کی کون مانے گا جبکہ ان باتوں کا تعلق عقائد کے ساتھ ہے کہ اگر اس بارے میں معمولی سی لغزش بھی ہو جائے تو معافی نہیں۔
(٢) مصری صحافی محمدرضا تو محض ایک صحافی ہیں اگر یہ گالیوں والا لفظ کسی علامہ صاحب اور محقق العصر یا امام بخاری سے بھی بڑے محدث کا کہا ہوا ہو تو بھی اس اصول کی روشنی میں بالکل مردود اور نا قابل التفات ہے جو ہم عرض کر چکے ہیں کیونکہ ستہ متواترہ میں فحش گوئی سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے مشکوۃ وغیرہ کتابوں میں با قاعده ابواب قائم کر کے دسیوں روایات بیان کی گئی ہیں فحش گوئی سے اجتناب کا حکم کتاب الله میں بھی موجود ہے۔