ابلیس اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایمان برابر ہے. (تاریخ بغداد)

شیعہ اعتراض

ابلیس اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایمان برابر ہے. (تاریخ بغداد)

(الجواب)
نمبر ١)
تاريخ کی روایات بالعموم بلا تحقیق منقول ہوتی ہیں، جس کسی نے جو کچھ کہا اسے لکھ لیا گیا بس یہ تاریخ ھے. یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں متضاد باتیں بکثرت موجود ہیں ایک شخص کی تعریف ھے تو اسی شخص کی مذمت بھی اسی کتاب میں موجود ہوتی ھے ظاہر ھے لوگوں کے خیالات کا نام تاریخ ہے اور خیالات غلط بھی ھوتے ہیں درست بھی پھر خیالات کی بنیاد دوستی اور دشمنی پر مبنی ہوتی ہے دوست اگر اظہار محبت کرتا ھے تو دشمن اظہار نفرت.
یہی وجہ ہے کہ تاریخ پر اندھا اعتماد نہیں کیا جاتا.
نمبر ٢)
صحابہ کرام کے سیرت کے بارے میں قرآن پاک اور حدیث رسول میں مفصل احوال موجود ہیں ان قرآنی ہدایات اور نبوی ارشادات کی موجودگی میں مزید کسی تاریخی بات پر اعتماد کرنا جبکہ وہ قرآن پاک یا فرامین محبوب کبریا (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متصادم ھو کر ہرگز درست نہیں ہے.
نمبر ٣)
تاريخ بغداد کا مذکورہ مقام جس روایت کو بیان کر رہا ھے اسی صفحہ پر اس روایت کا جھوٹا ھونا بھی بیان کر رہا ھے تعجب ھے رافضی تاریخ دان پر جو محبوب بن عیسی انطاقی کی خبر کو پڑھتا ھے مگر اس کی نظر محبوب بن عیسی انطاقی کے جھوٹی روایات نقل کرنے والی پر نہیں پڑتی بلکہ مطلب کی بات دیکھ کر فوراً اندھی ہو جاتی ہے حالانکہ اسی صفحہ پر اس روایت کی حقیقت بھی لکھ دی گئی ھے کہ محبوب بن عیسی انطاقی جس کی کنیت ابو صالح اھے اس کی فزاری وغیرہ سے جھوٹی کہانیاں منقول ہیں. تاريخ بغداد کے مذکورہ عکسی صفحہ پر ہی ابو داؤد کا قول بھی درج ہے کہ
لا يلتفت الى حكاياته.
اس کی کہانیوں کی طرف کوئی توجہ نہ کی جائے. (تحقیقی دستاویز ٥٨٦)
الفزاری وہ شخص ھے جو امام ابو حنیفہ کے بارے میں زبان درازی کیا کرتا تھا اور ان سے دشمنی رکھتا تھا.
(امام ابو حنیفہ ہ عاد١١نہ دفاع صفحہ ١٣٥)
لہذا تاریخ میں دشمن کی یہ بات امام اعظم (رح) کو بدنام کرنے کے لئے منقول ہوئی. اور ہر ذی عقل بخوبی جانتا ھے کہ دشمن کی بات کا ہر گز اعتبار نہیں کیا جا سکتا. 477

نمبر ٤)
ہر ذی عقل اس بات سے آگاہ ہے کہ دشمن نے تو دشمنی ہی کرنی ہوتی ہے الفزاری امام اعظم کا دشمن تھا اور ان پر
زبان درازیاں کرتا تھا اور رافضی قلمکار ابو بکر صدیق (رض) کا دشمن اور ان پر زبان درازیاں کرتا ہے ایک دشمن نے امام
اعظم کو بدنام کرنے کیلئے یہ جھوٹ اڑا دیا جسے تاریخ بغداد نے اپنے ورقوں میں جگہ دی اور ساتھ میں اس کے جھوٹے
ہونے کی وضاحت بھی کر دی تو دوسرے (یعنی دشمنان صدیق اکبر ) نے اس جھوئی روایت کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور پیسہ روپیہ خرچ کر کے
اس کی خوب تشہر کی اب ارباب انصاف ہی اس باکمال سروس کا لا جواب جھوٹ سی کھاتے لگائیں گویا ایک جھوٹے دشمن نے جھوٹ بولا تو جھوٹوں نے یہ جھوٹ جھوٹی کہانیاں بنا کر پھیلا دیا اب اس جھوٹ پر
جھوٹے لوگ اعتبار کریں تو کریں اہل حق اور ایمان والوں کا تو یہ ہر گز شیوا نہیں کہ وہ جھوٹ پر اپنے عقیدے
عمل کی بنیاد رکھیں.

(٥)ایک ہے ایمان کی کیفیت اور ایک ہے ایمانیات یعنی جن چیزوں کو ماننا اور اعتقاد رکھنا ضروری ہے یہاں کیفیت میں برابری نہیں ہے۔ اور کمیت یا ایمانیات میں ایمان کی برابری پر اعتراض اگر واقعی وزنی ہے تو پھر قرآن کریم میں اللہ
تعالی نے فرمایا:

“بے شک ایمان والوں اور یہودیوں اور عیسائیوں اور صابیوں میں سے جو لوگ بھی اللہ تعالی پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں تو ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس۔ الخ ” (البقره ۲۴۰)

یہاں بھی مسلمانوں اور یہودیوں ، عیسائیوں اور صابیوں کے دین کو برابر قرار دیا ہے کیا اس جیسا الزام قرآن پاک پر بھی فٹ کیا جائے گا؟

2 تبصرے “ابلیس اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایمان برابر ہے. (تاریخ بغداد)

  1. ہم تمام کتب جس میں صحا بہ کرام کا دفاع ہو پڑھنا چاہتے ہیں

    1. سنی ڈاٹ کام پر کتب سیکشن میں آپ کو مطلوبہ کتب آسانی سے مل جائیں گی۔

تبصرے بند ہیں