فرائد السمطین (محمد بن ابراہیم حموینی) شیعہ کتاب ہے!

فرائد السمطین کتاب کی حقیقت

اس کتاب کے مصنف کا نام ابراہیم بن محمد حموینی ہے مسئلہ امامت خلافت وغیرہ کے اثبات پر اہل تشیع اس کی کتاب کے بعض حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ اور “اہل سنت” کے عالم دین کے روپ میں اسے ذکر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ شخص “تقیہ باز” شیعہ ہے
۔ اور اس کی تصانیف میں ایسے حوالہ جات سے بھری پڑی ہیں۔ جو اہل تشیع کے ہاں مسلم ہیں ۔ “انوارنعمانیہ” سے ان کے عقیدہ کا ذکر موجود ہے “کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کو آگاہ کیا۔ اگر تم نے پنجتن کے بارے میں حسد ورقابت سے کام لیا۔ تو سخت سزا کے مستحق ہو جاؤ گے اور یہ کہ اگر تم نے مجھ سے کچھ مانگنا ہے۔ ان کے وسیلہ کے بغیر نہ مانگنا۔

مشہور شیعہ تبرائی غلام حسین نجفی نے بھی اپنی کتاب “قول مقبول” میں ایسے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے (اور وہ بھی اہل سنت کی طرف سے) “فرائد السمطین” کا حوالہ پیش کیا نجفی ملعون کے الفاظ ملاحظ ہوں۔

“جناب زہرا کی فضیلت عالم انوارمیں” اہل سنت کی معتبر کتاب
فرائدالسمطین باب اول ص36

“جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہوں نے عرش کی دائیں جانب پانچ نوری پیکر رکوع و سجود میں مشغول عبادت پائے آدم نے اللہ کے حضور میں عرض کی کہ مجھ سے پہلے تو نے کسی کو مٹی سے پیدا کیا؟ اللہ نے فرمایا کہ نہیں
آدم علیہ السلام نے عرض کی یہ نوری پیکر میری صورت میں کون ہیں؟ اللہ نے فرمایا یہ پانچ تیری اولاد میں سے ہیں اور اگر ان کو پیدا نہ کرتا تو تجھے بھی پیدا نہ کرتا ان پانچ کے پانچ نام میں نے اپنے ناموں سے نکالے ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو میں جنت و دوزخ کو پیدا کرتا نہیں عرش و کرسی کو پیدا کرتا ہے زمین و آسمان کو پیدا کرتا اور نہ ہی فرشتہ جن و انس پیدا کرتا میں محمود ہوں تو یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے میں عالی ہوں یہ علی ہے میں فاطر ہوں یا فاطمہ ہے میں احسان و محسن ہوں یا حسن و حسین ہیں”

آگے شیعہ نجفی ملعون لکھتا ہے

“میں نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ جو شخص میرے پاس آئے گا اور اس کے دل میں رائی برابر ان پانچ انوار کا بغض ہوگا اس کو آگ میں ڈالوں گا اے آدم یہ میری مخلوق میں چنے ہوئے ہیں، ان کے صدقے میں نجات دوں گا اور ان کے بغض کی وجہ سے ہلاک کروں گا اے آدم اگر تجھےم کو میرے دربار میں کوئی کام پڑے تو ان پانچ انوار کو وسیلہ بنا اور نبی کریم نے بھی یہی فرمایا ہے ہم نجات کی کشتی ہیں اور جس کو اللہ کے حضور میں کوئی حاجت پیش آئے وہ ہم اہل بیت کے وسیلہ سے اللہ سے حاجت طلب کرے

غلام نجفی کی کتاب قول مقبول في اثبات بنت الرسول ص۱۲ – ۱۳ )

آپ نے شیعہ تبرائی نجفی کی کی بات پڑھ لی؟ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ فرائد السمطین اہلسنت کی کتاب ہے؟

آگے کتاب کی حقیقت پڑھیں:

اسی فرائدالسمطین کتاب کے بارے میں شیعہ کتاب ” ینابیع المودۃ،، کے مصنف اپنی اسی تصنيف میں کچھ عقائد کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ اگرچہ “فرائد السمطين،، ہمارے پاس نہیں۔ لیکن “ينابيع المودۃ” میں اس کے چند حوالہ جات ملتے ہیں۔ ان حوالہ جات کی روشنی میں آپ بخوبی اندازہ لگائیں گے ۔ محمد بن ابراہیم حموینی کون ہے ؟ اور کس ملک سے تعلق رکھتا ہے ؟

ینابیع المودة میں مذکورہ فرائد السمطین کے چند اقتباسات

حوالہ 1.ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ع کو گلے لگایا اور آپ نے فرمایا کچھ لوگوں کے دل میں تیرا بغض ہے جو میرے بعد ظاہر کریں گے یعنی تم سے خلافت چھین لیں گے
“ینابیع المودۃ” صفحہ 134

حوالہ 2۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک یہودی کا سوال و جواب یہودی نے حضور نبی کریم صلی اللہ وسلم سے پوچھا جب کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا چلایا آیا ہے جیسا کہ موسی علیہ السلام کے یوشع بن نون وصی تھے اس لئے آپ کا وصی بھی لازمی ہے وہ کون ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا وصی علی بن ابی طالب ہے اس کے بعد ان کے دونوں فرزند حسن و حسین پھر ان کے بعد نو امام جو امام حسین ع کی پشت سے ہونگے وہ میرے وصی ہیں یہودی نے پوچھا مجھے ان کے نام بتلا دیجیئے فرمایا جب حسین دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے علی ان کے بعد ان کے بیٹے محمد اور ان کے بعد ان کے بیٹے جعفر اور ان کے بعد ان کے بیٹے موسی اور ان کے بعد ان کے بیٹے علی اور ان کے بعد ان کے بیٹے محمد ان کے بعد ان کے بیٹے علی ان کے بعد ان کے بیٹے حسن ان کے بعد ان کے بیٹے محمد الحجۃ محمد المہدی یہ ہیں بارہ آئمہ جو میرے بعد وصی ہونگے “ینابیع المودۃ” صفحہ 441

حوالہ 3۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرمایا میں علی حسن حسین اور نو افراد ان کی اولاد سے مطہر معصوم ہوں گے.
“ینابیع المودۃ” صفحہ 445

حوالہ 4.حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے میرے بعد میرے خلفاء اور وصی حضرات اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق پر حجت بارہ حضرات ہونگے ینابیع المودۃ صفحہ 447

حوالہ 5. حضرت ابن عباس نے حضور صلی اللہ وسلم کا یہ قول ذکر کیا فرمایا میرے بعد میری امت کے امام علی المرتضی ہونگے اور ان کی اولاد سے وہ شخص آئے گا جو القائم المنتظر کے نام سے مشہور ہو گا آتے ہی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا

نتیجہ:

توضیح حوالہ نمبر ایک میں صاحب فرائدالسمطین کے عقیدے کے مطابق خلفاء ثلاثہ معاذاللہ غاصب خلافت علی ہیں

حوالہ نمبر دو کے مطابق حضرت علی وصی رسول ہیں ان کے بارہ آئمہ یکے بعد دیگرے وصی ہیں لہذا خلفاء ثلاثہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو ٹھکرا کر اپنی خلافت کا اعلان کیا

حوالہ نمبر تین کے اعتبار سے تمام ائمہ کو معصوم کہا گیا یہی چند عقائد ہیں جو کہ شیعہ اور سنی کے مابین مختلف ہیں شیعہ ان کے شدومد کے قائل ہیں لہذا معلوم ہوا کہ عقائد کی وجہ سے صاحب فرائد السمطین محمد بن ابراہیم کٹر شیعہ ہے

ان حوالہ جات سے جو عقائد نظر آئے۔ اُن کی رو سے ہم پہنچان گئے کر فرائد السمطين مصنف ہرگز سنی نہیں ہے۔

اب دوسرا طریقہ سامنے رکھیے خود شیعہ محققین سے پوچھتے ہیں کہ اس مصنف کے بارے میں تمہاری کیا تحقیق ہے؟؟

تحقیق سنیئے۔

“فرائد السمطین مصنف شیعہ کا پروردہ ہے اس لئے اس کا شیعہ ہونا ہی قرین عقل ہے آقا بزرگ شیعہ”

ثبوت شیعہ کتاب
(الذریعہ جلد ا ص ۱۳۶ ، ۱۳۷ مطبوعہ بیروت
طبع جدید)

ترجمہ: صاحب الریاض صدرالدین ابراہیم نے اپنی اس
تصنیف میں ایک عنوان باندھا۔ وہ یہ کہ کچھ مصنفین ایسے ہیں جو مشہور معروف شیعہ علماء کے شاگرد ہیں ۔ اور انہوں نے فضائل اہل بیت پر تصانیف بھی لکھی ۔ ان دو باتوں کی بنا پر ان مصنفین کے شیعہ ہونے کا احتمال ہے۔ اس عنوان کے تحت صاحب فرائد السمطین کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ میں (صاحب الزریعہ) کہتا ہوں کہ مکتبہ الشکوة میں فرائد السمطین کا مکمل نسخہ موجود ہے۔ اس کتاب میں بسم الله کے بعد تبارك الذي نزل الفرقان آیت لکھی ہوئی ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت وثناء تحریر ہے۔ پھر یہ الفاظ موجود ہیں ۔ اللہ تعالی نے حضرت علی ع کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منتخب کیا۔ آپ کے بھائی اور مددگار بنے۔ پھر حضرت علی ع کے بارے میں مزید لکھا۔ کہ تم تعریفیں اسی اللہ کی میں نے آپ پر دروازہ نبوت بند کر دیا۔ اور ولایت کی ابتداء آپ کے چچا زاد بھای سے کی جو آپ کے ساتھ وہ مقام و منزل رکھتے ہیں۔ جو ہارون کو موسی کے ساتھ تھا علی ع آپ کے وصی ہیں۔ الرضی المرتضیٰ ہیں ، باب العلم ہیں آخر میں یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ، اور اللہ کے شیر علی ابن ابی طالب آپ کی عترت وآل مبارک جو آسمان عصمت کا درخشندہ ستارے ہیں ۔ یعنی معصوم ہیں”

نتیجہ اور توضح:

“صاحب الریاض” نے دو وجوہات کی بنا پر محمد بن ابراہیم حموینی کے شیعہ ہونے کا احتمال ذکر کیا لیکن آقائے بزرگ طہرانی شیعی صاحب کتاب “الزریعہ” نے اس کی تصنیف فرائد السمطین کے اقتباسات سے اس کا پکا شیعہ ہونا ثابت کیا ہے جن باتوں سے اس کی شیعیت ثابت کی گئی وہ بالاختصار یہ ہیں۔

1.حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وزیر خلیل رفیق اور ظہیر لکھا گیا ہے۔

۲- انما ولیکم الله ورسوله کی تفسیر کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امام الاولیاء لکھ کر ان کی آل و اولاد کو ائمہ معصومین کہا گیا۔

3.حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی رسول ہیں ۔ ان تین عقائد کے بعد جب اس کا شیعہ ہونا “صاحب الزریعہ” کے نزدیک مسلم تھا اس نے اسی حموینی کے لیے یہ دعائیہ الفاظ اسی مذکورہ صحفہ پر کہے

ترجمہ: آئمہ معصومین کے ساتھ محبت کی وجہ سے اللہ تعالی حموینی کو معاف کر دے اور اس کی متابعت و امامت کے عقیدے پر اسے زندہ رکھے اور ان کے ساتھ اس کا حشر و نشر کرے اولین و آخرین کے سرداروں کے جھنڈے تلے اسے جگہ دے”

مذہب شیعہ میں صرف اور صرف اہل تشیع کے لیے دعائے مغفرت ہے “فروع کافی” میں مذکور ہے اگر کوئی اہلسنّت مر جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی جائے اگر مجبوری شرکت کرنی پڑے تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے بلکہ اس کی بجائے لعنت کی دعا کرے شیعہ آقائے بزرگ طہرانی نے کلمات دعائیہ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا کہ “فرائد السمطین” کتاب کا مصنف ان کا اپنا ہے اور یقینا ایسا ہی ہے ان تصریحات کے بعد محمد بن ابراہیم حموینی کی شخصیت نکھر کر سامنے آ گئی ہے اب اسے سنی عالم اور اس کی تصنیف کا اہل سنت کی معتبر کتاب کہنا “ظلم عظیم” سے کم نہیں نجفی اور علامہ شہنشاہ نقوی جیسے جاہلوں کی جہالت بھی قابل داد ہے قول مقبول کے نامقبول و نامعقول انداز سے اس کے مؤلف لایعقل نجفی حجتی کی بے ایمانی میں ظاہر ہوگی اور شہرت کا پجاری علامہ شلامہ شہنشاہ نقوی ملعون کا جھوٹ جو دن رات مجلسوں میں فرائد السمطین کو اہلسنّت کی معتبر کتاب کہتا ہے اس کا کذب بھی سامنے آ گیا اب بھی کوئی غیرت مند شیعہ اس اپنے علامے شہنشاہ نقوی کے بیان پیش کر کے اہلسنّت کو پاگل بنانے کی کوشش کرے گا؟؟؟ کہ اس میں سنی کلمہ ہے

شیعہ عالم آقائے بزرگ طہرانی نے اپنی مشہور کتاب “الذریعہ الی تصانیف الشیعہ “ میں نہ صرف فرائد السمطین کا ذکر کیا ہے بلکہ اس کتاب کے کچھ اقتباسات سے محمد بن ابراہیم حموینی کو پکا شیعہ ثابت کیا ہے۔

👇👇👇👇

🔴 جن باتوں سے محمد بن ابراہیم حموینی کی شیعیت ثابت کی گئی ہے وہ یہ ہیں۔

1️⃣ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم کا وزیر، خلیل، رفیق اور ظہیر لکھا گیا ہے۔

2️⃣ انما ولیکم اللہ و رسولہ کی تفسیر کے تحت حضرت علی کو امام الاولیاء لکھ کر ان کی اولاد کو ائمہ معصومین کہا گیا ہے۔

3️⃣ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی رسول اللہ ہیں۔

👈 ان تین عقائد کے بعد صاحب الذریعہ الی تصانیف الشیعہ “آقائے بزرگ طہرانی نے فرائد السمطین کے مصنف “محمد بن ابراہیم حموینی کا پکا شیعہ ہونا ثابت کیا ہے۔

🔴 اسی حموینی کے لئے آقائے بزرگ طہرانی نے دعائیہ کلمات بھی بیان کئے ہیں۔

آئیے ان الفاظ اور ترجمہ پر بھی غور و فکر کرتے ہیں۔ 👇👇👇

👈 یاد رہے کہ مذہب شیعہ میں صرف اور صرف اہل تشیع کے لئے دعائے مغفرت جائز ہے۔

👈 فروع کافی میں مذکور ہے کہ اگر کوئی اہل سنت مر جائے تو اس کی جنازہ نماز میں شرکت نہ کی جائے۔

اگر مجبوراً شرکت کرنا پڑے تو اس کے لئے مغفرت کی دعا حرام ہے۔

بلکہ اس کی بجائے لعنت کی دعا کرے۔

♦️ شیعہ معتبر عالم کی طرف سے فرائد السمطین کے مصنف محمد بن ابراہیم حموینی کے لئے دعائے مغفرت کرنا اسی بات کا اشارہ ہے کہ یہ مصنف ان کا اپنا ہے، اور یقینآ ایسا ہی ہے۔

♦️ان تمام تصریحات کے بعد فرائد السمطین کے مصنف کی اصلیت نکھر کر سامنے آگئی ہے۔ اب اگر کوئی جاہل اسے سنی عالم اور اس کی کتاب فرائد السمطین کو اہل سنت کی کتاب کہے تو یہ ظلم عظیم سے کم نہیں ہوگا۔