شرح ابن ابی الحدید شیعہ کتاب ہے!

1️⃣ شرح ابن ابی الحدید (علامہ ابن ابی الحدید)

🔴 کچھ اہم حقائق👇👇👇

♦️ابن ابی الحدید تشیع پسند تھا۔ (شیخ عباس قمی)♦️

عزالدین عبدالحمید بن محمد بن الحسین بن ابی الحدید المدائنی الفاضل الادیب المؤرخ الحکیم الشاعر نہج البلاغہ کا شارح ہے اور سات مشہور قصیدوں کا قائل ہے۔ مذہب کے اعتبار سے معتزلہ تھا، جیسا کہ اپنے بارے میں خود اسے معتزلہ ہونے کا اقرار ہے اور یہ اقرار اس نے ایک قصیدے میں کہا، جو اس نے حضرت علی المرتضی کی شان میں کہا

👈 اور میں اپنے آپ کو معتزلہ سمجھتا ہوں،

اور میں آپ کی وجہ سے ہر شیعہ کہلانے والے کو دل سے چاہتا ہوں۔

(الکنی والالقاب جلد اوّل ص 239)

ابن ابی الحدید باوجود معتزلی ہونے کے “تشیع پسند” تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شخص جن لوگوں میں زندگی بسر کر رہا تھا وہ معتزلی ہوتے ہوئے تشیع کو اپنائے ہوئے تھے، بلکہ تشیع ان کے لئے ضروری تھا۔ اس بات کا ثبوت شرح ابن ابی الحدید کے مقدمے میں بھی کچھ اس طرح مذکور ہے۔ 👇👇👇

🔴 مقدمہ شرح ابی الحدید کے مطابق

ابن ابی الحدید معتزلی شیعہ تھا۔

👇👇👇

ترجمہ: ابن ابی الحدید مدائن میں پیدا ہوا۔ اس کا سن پیدائش 586 ھجری ہے اور مدائن میں پرورش پائی اور اسی کے شیوخ سے استفادہ کیا اور مذہب کلامیہ پڑھا پھر اعتزال کی طرف پلٹ گیا۔ ان دنوں اہل مدائن میں شیعت غالب تھی اور اس بارے میں غلو اور ادھر ادھر کی بہت سی باتیں ان میں موجود تھیں، اس نے بھی ان کی روش اختیار کی اور ان کے مذہب کو اپنا لیا۔ اس نے “علویات” نامی مشہور قصیدے بھی لکھے۔ جن میں اہل مدائن کے معتقدات بھی بیان کئے، ان میں اس نے غلو بھی کیا اور تشیع کا اظہار بھی۔ ان قصائد میں بہت سے اشعار میں مذہب اعتزال کا اعتراف میں اظہار کیا، ان قصائد میں ایک شعر یہ بھی ہے۔

میں نے مذہب اعتزال اختیار کیا

اور تیری وجہ سے ہر اس شخص سے محبت کرتا ہوں جو تشیع رکھتا ہے۔

(شرح ابن ابی الحدید تحقیق محمد ابوالفضل ابراھیم الجزء الاول ص 13,14)

👈 12 جلدوں میں جو شرح ابن ابی الحدید چھپی ہے ، اس کے مقدمے میں مذکورہ عبارت موجود ہے۔

ان حوالا جات سے معلوم ہوا کہ

👈 “ابن ابی الحدید” خود اقراری ہے کہ وہ معتزلی شیعہ تھا کیونکہ جس علاقہ میں اس کی نشونما ہوئی ، ان لوگوں میں یہ مرض بکثرت تھا۔

👈 ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی ، جسے “شرح ابن ابی الحدید” کہا جاتا ہے۔

👈 یہ شرح اس دور کے ایک وزیر ابن علقمی کے کہنے پر لکھی گئی، جو شیعہ تھا۔ (اس بات کا ثبوت بھی اگلے جواب میں پیش کرتا ہوں)

👈 سات مشہور قصیدے حضرت علی المرتضی کی شان میں لکھے وہ بھی اسی وزیر کی فرمائش تھی۔

غور کریں ۔۔

👈 نہج البلاغہ کی شرح لکھنے کا حکم بھی شیعہ وزیر دے اور لکھنے والا خود اپنا شیعہ ہونا تسلیم کرے تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس شرح کو وہ مسلک اہل سنت کے مطابق اور ان کے معتقدات کے موافق تحریر کرے۔

📣 استدلال: شرح ابن ابی الحدید کو اہل سنت کی کتاب قرار دینا اورعلامہ ابن ابی الحدید کو اہل سنت کا عالم کہنا صریح جھوٹ ہے۔